کاغذی جمہویت کے یہ نئے حکمر ا ن یارو
کل تک جو لُٹیرے تھے وہ آج ہيں پاسبان یارو
پہلے کی اور بات ہے جب انکوڈھونڈنہ پڑتا تھا
آجکل تو بازاروں ميں بکتے ہيں سیاستدان یارو
ڈاکوچورلٹیرے بھی انصاف کی باتیں کرتے ہيں
قاضی کی عدالت ميں بیٹھ کر بے ایمان یا ر وں
ان کی اُلٹی چالوں کو اب رعایہ بیچا ری کیا جانے
ھنستے ھنستے منٹوں ميں کر دیتے ہیں پریشان یا ر و
اسليئے تو مانگنا بھی ہم ان سے کچھ چا ہتے نہيں
کرکے چھوٹا کام بڑا جیتائیں گے احسا ن یا ر و
لپڑی چپڑی باتوں ميں اب آکر سیا ستدانوں کی
چُن لیا ہے ان کو پر اب لو گ ہيں پشیما ن یا ر و
کس کی جرأت ہے کہ وہ ان کو دھوکہ دے جبکہ
انکے سائے سے تو خود اب بھا گتا ہے شیطان یارو
اتنا سب کچھ جا ن کر بھی ہم ہو تے اب مایوسں نہيں
گر چہ کم صحیح لیکن ہيں کچھ ان میں انسان یا ر و
اکثر یہ دُعا اب تو کرتا ہے نواز کہ یہ
کاش سدھر جا ئیں یا پھر سدھار جائیں جہان یارو