Results 1 to 9 of 9

Thread: Aise Laug Ab Phir Laut Ke Nahin Aayein Ge

  1. #1
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    candel Aise Laug Ab Phir Laut Ke Nahin Aayein Ge

    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

    السلام و علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

    نوٹ: اس تھریڈ کو پڑھتے ہوئے کسی لمحے آپکو اپنی آنکھوں میں نمی سی محسوس ہو تو جہاں اپنی مغفرت کی دعاء کیجئے وہان اس خاکسار کو بھی یاد کر لیجیئے گا۔


    دو نوجوان سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی محفل میں داخل ہوتے ہی محفل میں بیٹھے ایک شخص کے سامنے جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اسکی طرف انگلی کر کے کہتے ہیں یا عمر رضی اللہ عنہ یہ ہے وہ شخص!

    سیدنا عمررضی اللہ عنہ ان سے پوچھتے ہیں....کیا کیا ہے اس شخص نے؟

    یا امیر المؤمنین....اس نے ہمارے باپ کو قتل کیا ہے۔

    سیدنا عمررضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں۔....کیا کہہ رہے ہو، اس نے تمہارے باپ کو قتل کیا ہے؟

    سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس شخص سے مخاطب ہو کر پوچھتے ہیں....کیا تو نے ان کے باپ کو قتل کیا ہے؟

    وہ شخص کہتا ہے....ہاں امیر المؤمنین، مجھ سے قتل ہو گیا ہے انکا باپ ۔

    سیدنا عمررضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں۔....کس طرح قتل کیا ہے؟

    یا عمر رضی اللہ عنہ....انکا باپ اپنے اونٹ سمیت میرے کھیت میں داخل ہو گیا تھا، میں نے منع کیا، باز نہیں آیا تو میں نے ایک پتھر دے مارا۔ جو سیدھا اس کے سر میں لگا اور وہ موقع پر مر گیا۔

    سیدنا عمررضی اللہ عنہ کہتے ہیں....پھر تو قصاص دینا پڑے گا، موت ہے اسکی سزا.


    نہ فیصلہ لکھنے کی ضرورت....اور فیصلہ بھی ایسا اٹل کہ جس پر کسی بحث و مباحثے کی بھی گنجائش نہیں....نہ ہی اس شخص سے اسکے کنبے کے بارے میں کوئی سوال کیا گیا ہے....نہ ہی یہ پوچھا گیا ہے کہ تعلق کس قدر شریف خاندان سے ہے....نہ ہی یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے کی تعلق کسی معزز قبیلے سے تو نہیں....معاشرے میں کیا رتبہ یا مقام ہے؟.....ان سب باتوں سے بھلا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو مطلب ہی کیا ہے!!
    کیوں کہ معاملہ اللہ کے دین کا ہو تو عمر رضی اللہ عنہ پر کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمررضی اللہ عنہ کو روک سکتا ہے۔ حتی کہ سامنے عمررضی اللہ عنہ کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ قاتل کی حیثیت سے آ کھڑا ہو.....قصاص تو اس سے بھی لیا جائے گا.


    وہ شخص کہتا ہے اے امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ: اس کے نام پر جس کے حکم سے یہ زمین و آسمان قائم کھڑے ہیں مجھے صحراء میں واپس اپنی بیوی بچوں کے پاس جانے دیجیئے تاکہ میں انکو بتا آؤں کہ میں قتل کر دیا جاؤں گا۔ ان کا اللہ اور میرے سوا کوئی آسرا نہیں ہے، میں اسکے بعد واپس آ جاؤں گا۔

    سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کون تیری ضمانت دے گا کہ تو صحراء میں جا کر واپس بھی آ جائے گا؟

    مجمع پر ایک خاموشی چھا جاتی ہے۔ کوئی بھی تو ایسا نہیں ہے جو اسکا نام تک بھی جانتا ہو۔ اسکے قبیلے، خیمے یا گھر وغیرہ کے بارے میں جاننے کا معاملہ تو بعد کی بات ہے۔



    کون ضمانت دے اسکی؟
    کیا یہ دس درہم کے ادھار یا زمین کے ٹکڑے یا کسی اونٹ کے سودے کی ضمانت کا معاملہ ہے؟
    ادھر تو ایک گردن کی ضمانت دینے کی بات ہے جسے تلوار سے اڑا دیا جانا ہے۔
    اور کوئی ایسا بھی تو نہیں ہے جو اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمررضی اللہ عنہ سے اعتراض کرے، یا پھر اس شخص کی سفارش کیلئے ہی کھڑا ہو جائے۔ اور کوئی ہو بھی نہیں سکتا جو سفارشی بننے کی سوچ سکے۔



    محفل میں موجود صحابہ پر ایک خاموشی سی چھا گئی ہے، اس صورتحال سے خود عمر رضی اللہ عنہ بھی متأثر ہیں۔ کیوں کہ اس شخص کی حالت نے سب کو ہی حیرت میں ڈال کر رکھ دیا ہے۔ کیا اس شخص کو واقعی قصاص کے طور پر قتل کر دیا جائے اور اس کے بچے بھوکوں مرنے کیلئے چھوڑ دیئے جائیں؟ یا پھر اسکو بغیر ضمانتی کے واپس جانے دیا جائے؟ واپس نہ آیا تو مقتول کا خون رائیگاں جائے گا!


    خود سیدنا عمررضی اللہ عنہ سر جھکائے افسردہ بیٹھے ہیں ہیں اس صورتحال پر، سر اُٹھا کر التجا بھری نظروں سے نوجوانوں کی طرف دیکھتے ہیں، معاف کر دو اس شخص کو۔

    نہیں امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ، جو ہمارے باپ کو قتل کرے اسکو چھوڑ دیں، یہ تو ہو ہی نہیں سکتا، نوجوان اپنا آخری فیصلہ بغیر کسی جھجھک کے سنا دیتے ہیں۔

    حضرت عمررضی اللہ عنہ ایک بار پھر مجمع کی طرف دیکھ کر بلند آواز سے پوچھتے ہیں ، اے لوگو ، ہے کوئی تم میں سے جو اس کی ضمانت دے؟

    ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ اپنے زہد و صدق سے بھر پور بڑھاپے کے ساتھ کھڑے ہو کر کہتے ہیں میں ضمانت دیتا ہوں اس شخص کی!

    سیدنا عمررضی اللہ عنہ کہتے ہیں ابوذر رضی اللہ عنہ ، اس نے قتل کیا ہے۔

    چاہے قتل ہی کیوں نہ کیا ہو، ابوذر رضی اللہ عنہ اپنا اٹل فیصلہ سناتے ہیں۔

    عمررضی اللہ عنہ: جانتے ہو اسے؟

    ابوذررضی اللہ عنہ: نہیں جانتا اسے۔

    عمررضی اللہ عنہ: تو پھر کس طرح ضمانت دے رہے ہو؟

    ابوذررضی اللہ عنہ: میں نے اس کے چہرے پر مومنوں کی صفات دیکھی ہیں، اور مجھے ایسا لگتا ہے یہ جھوٹ نہیں بول رہا، ان شاء اللہ یہ لوٹ کر واپس آ جائے گا۔

    عمررضی اللہ عنہ: ابوذر دیکھ لو اگر یہ تین دن میں لوٹ کر نہ آیا تو مجھے تیری جدائی کا صدمہ دیکھنا پڑے گا۔

    امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ، پھر اللہ مالک ہے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ اپنے فیصلے پر ڈٹے ہوئے جواب دیتے ہیں۔


    سیدنا عمررضی اللہ عنہ سے تین دن کی مہلت پا کر وہ شخص رخصت ہو جاتا ہے، کچھ ضروری تیاریوں کیلئے، بیوی بچوں کو الوداع کہنے، اپنے بعد اُن کے لئے کوئی راہ دیکھنے، اور اس کے قصاص کی ادئیگی کیلئے قتل کئے جانے کی غرض سے لوٹ کر واپس آنے کیلئے۔



    اور پھر تین راتوں کے بعد، عمر رضی اللہ عنہ بھلا کیسے اس امر کو بھلا پاتے، انہوں نے تو ایک ایک لمحہ گن کر کاٹا تھا، عصر کے وقت شہر میں (الصلاۃ جامعہ) کی منادی پھر جاتی ہے، نوجوان اپنے باپ کا قصاص لینے کیلئے بے چین اور لوگوں کا مجمع اللہ کی شریعت کی تنفیذ دیکھنے کے لئے جمع ہو چکا ہے۔


    ابو ذررضی اللہ عنہ بھی تشریف لاتے ہیں اور آ کر عمررضی اللہ عنہ کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔

    کدھر ہے وہ آدمی؟ سیدنا عمررضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں۔

    مجھے کوئی پتہ نہیں ہے یا امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ، ابوذررضی اللہ عنہ مختصر جواب دیتے ہیں۔

    ابوذررضی اللہ عنہ آسمان کی طرف دیکھتے ہیں جدھر سورج ڈوبنے کی جلدی میں معمول سے سے زیادہ تیزی کے ساتھ جاتا دکھائی دے رہا ہے۔

    محفل میں ہو کا عالم ہے، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ آج کیا ہونے جا رہا ہے؟

    یہ سچ ہے کہ ابوذررضی اللہ عنہ سیدنا عمررضی اللہ عنہ کے دل میں بستے ہیں، عمررضی اللہ عنہ سے ان کے جسم کا ٹکڑا مانگیں تو عمررضی اللہ عنہ دیر نہ کریں کاٹ کر ابوذررضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیں، لیکن ادھر معاملہ شریعت کا ہے، اللہ کے احکامات کی بجا آوری کا ہے، کوئی کھیل تماشہ نہیں ہونے جا رہا، نہ ہی کسی کی حیثیت یا صلاحیت کی پیمائش ہو رہی ہے، حالات و واقعات کے مطابق نہیں اور نہ ہی زمان و مکان کو بیچ میں لایا جانا ہے۔ قاتل نہیں آتا تو ضامن کی گردن جاتی نظر آ رہی ہے۔

    مغرب سے چند لحظات پہلےوہ شخص آ جاتا ہے، بے ساختہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کے منہ سے اللہ اکبر کی صدا نکلتی ہے، ساتھ ہی مجمع بھی اللہ اکبر کا ایک بھرپور نعرہ لگاتا ہے۔

    عمررضی اللہ عنہ اس شخص سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں اے شخص، اگر تو لوٹ کر نہ بھی آتا تو ہم نے تیرا کیا کر لینا تھا، نہ ہی تو کوئی تیرا گھر جانتا تھا اور نہ ہی کوئی تیرا پتہ جانتا تھا!

    امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ، اللہ کی قسم، بات آپکی نہیں ہے بات اس ذات کی ہے جو سب ظاہر و پوشیدہ کے بارے میں جانتا ہے، دیکھ لیجئے میں آ گیا ہوں، اپنے بچوں کو پرندوں کے چوزوں کی طرح صحراء میں تنہا چھوڑ کر، جدھر نہ درخت کا سایہ ہے اور نہ ہی پانی کا نام و نشان۔ میں قتل کر دیئے جانے کیلئے حاضر ہوں۔
    مجھے بس یہ ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے وعدوں کا ایفاء ہی اُٹھ گیا ہے۔

    سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے ابوذررضی اللہ عنہ کی طرف رخ کر کے پوچھا....ابوذررضی اللہ عنہ، تو نے کس بنا پر اسکی ضمانت دے دی تھی؟

    ابوذررضی اللہ عنہ نے کہا، اے عمررضی اللہ عنہ، مجھے اس بات کا ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں سے خیر ہی اٹھا لی گئی ہے۔


    سید عمررضی اللہ عنہ نے ایک لمحے کیلئے توقف کیا اور پھر ان دو نوجوانوں سے پوچھا کہ کیا کہتے ہو اب؟

    نوجوانوں نے روتے ہوئے جواب دیا، اے امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ، ہم اس کی صداقت کی وجہ سے اسے معاف کرتے ہیں، ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے عفو اور درگزر ہی اُٹھا لیا گیا ہے۔

    سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اللہ اکبر پکار اُٹھے اور آنسو انکی ڈاڑھی کو تر کرتے نیچے گر رہے تھے۔۔۔۔

    اے نوجوانو! تمہاری عفو و درگزر پر اللہ تمہیں جزائے خیر دے۔

    اے ابو ذررضی اللہ عنہ! اللہ تجھے اس شخص کی مصیبت میں مدد پر جزائے خیر دے۔

    اور اے شخص، اللہ تجھے اس وفائے عہد و صداقت پر جزائے خیر دے۔

    اور اے امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ، اللہ تجھے تیرے عدل و رحمدلی پر جزائے خیر دے۔


    محدثین میں سے ایک یوں کہتے ہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، اسلام اور ایمان کی سعادتیں تو عمررضی اللہ عنہ کے کفن کے ساتھ ہی دفن ہو گئی تھیں۔


    اور آخر میں ہماری دعا ہے کہ اے اللہ، جزائے خیر دینا اُن کو بھی، جن کو یہ پوسٹ اچھی لگے اور وہ اسے آگے اپنے دوستوں کو بھیجیں ۔
    آمین یا رب العالمین۔



    محمد ساجد




  2. #2
    Join Date
    Aug 2010
    Location
    Pakistan
    Posts
    242
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474844

    Default Re: Aise Laug Ab Phir Laut Ke Nahin Aayein Ge

    Jazak Allah , kahan gaye asi siftain Muslims main se
    jo muslims ki pechan hoa krti the

  3. #3
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: Aise Laug Ab Phir Laut Ke Nahin Aayein Ge

    ایسی ہستیاں کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گی

    ایک وہ وقت تھا

    عمر فاروق وقت کے خلیفہ ہو کر راتوں میں گشت کیا کرتے تھے کے میری عوام میں کوئی پریشان تو نہیں

    اور آج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  4. #4
    Join Date
    Aug 2010
    Location
    shehr-e-zaat
    Posts
    2,559
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    36 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474846

    Default Re: Aise Laug Ab Phir Laut Ke Nahin Aayein Ge

    JAZAK ALLAH KHAIR
    bht khush rahiye bhai
    ye they momin jo ALLAH Ki maney they ab to bas musalman reh gayey hain jo ALLAH ko mantey hain uski nhe mantey RABB E KAREEM hum sab ko sacha or acha momin banney ki tofeeq ata fermayen ameeeeeeeeeeeeeen
    394999 198367593589296 174133136012742 401622 1270652005 n large - Aise Laug Ab Phir Laut Ke Nahin Aayein Ge
    ~I can't change fOr anybOdy~

  5. #5
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: Aise Laug Ab Phir Laut Ke Nahin Aayein Ge

    Quote Originally Posted by ~p@r!~ View Post
    jazak allah khair
    bht khush rahiye bhai
    ye they momin jo allah ki maney they ab to bas musalman reh gayey hain jo allah ko mantey hain uski nhe mantey rabb e kareem hum sab ko sacha or acha momin banney ki tofeeq ata fermayen ameeeeeeeeeeeeeen
    آمین یا رب العالمین۔
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  6. #6
    Join Date
    May 2010
    Location
    Islamabad
    Posts
    3,022
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    31 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474847

    Default Re: Aise Laug Ab Phir Laut Ke Nahin Aayein Ge

    jazakallah

  7. #7
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: Aise Laug Ab Phir Laut Ke Nahin Aayein Ge

    Shukriya
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

  8. #8
    Join Date
    Oct 2010
    Location
    India
    Posts
    97
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    Default Re: Aise Laug Ab Phir Laut Ke Nahin Aayein Ge

    Jazak Allah Khair...bohat hi khoobsoorat sharing ki hai aapne...

  9. #9
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    Default Re: Aise Laug Ab Phir Laut Ke Nahin Aayein Ge

    Shukriya
    پھر یوں ہوا کے درد مجھے راس آ گیا

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •