Page 1 of 2 12 LastLast
Results 1 to 10 of 14

Thread: My Beloved Son..!!

  1. #1
    Join Date
    Apr 2010
    Location
    CHanDi ChOwK
    Age
    26
    Posts
    907
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474844

    My Beloved Son..!!

    میرے پیارے بیٹے

    سامنے کھڑکی میں ایک کوا آکر بیٹھا تو بوڑھے باپ نے جوان بیٹے سے پوچھا کہ بیٹا یہ کیا ہے؟ بیٹے
    نے جواب دیا کہ بابا یہ کوا ہے۔ باپ نے کچھ دیر بعد پھر پوچھا کہ بیٹا یہ کیا ہے؟ بیٹے نے جواب دیا کہ بابا آپ کو بتایا نا کہ یہ کوا ہے۔ باپ نے کچھ وقفہ دے کر پھر پوچھا کہ بیٹے یہ کیا ہے تو بیٹا برہمی سے بولا کہ آپ کو پتا نہیں چلتا کہ یہ کوا ہے میں کتنی مرتبہ آپ کو بتا چکا ہوں کہ یہ کوا ہے کوا۔ باپ نے بڑے سکون سے جواب دیا کہ بیٹا ، بچپن میں جب یہی سوال تم مجھ سے سو مرتبہ پوچھتے تھے تو میں ہر مرتبہ تمھیں سمجھاتا تھا کہ یہ کوا ہے۔
    میرے بیٹے جب میں بوڑھا ہوجاؤں گا توتم میرے ساتھ صبر سے پیش آنا اور مجھے سمجھنے کی کوشش کرنا۔
    بیٹے دیکھنا جب میں کھانا کھاتے ہوئے اپنے کپڑے گندے کردوں اورمجھے کپڑے پہننا بھی نہ آئے تواس پربھی صبر کرنا اور یاد کرنا کہ کسی طرح میں نے تمھیں کپڑے پہننا، صاف رہنا اور جوتوں کے تسمے باندھنا سکھایا
    بیٹے بڑھاپے میں جب میں تم سے ایک ہی بات بار بار دھرا دھرا کربیان کروں تو تم صبر کرنا، مجھے ٹوکنا مت اور میری بات کو سنتے رہنا اور یاد کرنا کہ کس طرح بچپن میں ایک ہی کہانی میں تمھیں بار بار سناتا تھا اور سناتا ہی رہتا تھا جب تک کہ تم سو نہیں جاتے تھے۔
    بیٹے جب میں نہانا نہ چاہوں تو تم مجھے ڈانٹنا مت اور نہ ہی مجھے شرم دلانا اور یاد کرنا کہ کس طرح بچپن میں میں تمھارے پیچھے بھاگتا تھا جب تم نہانا نہیں چاہتے تھے اور میں کس کس طرح تمھیں منانے کے لیے ہزاروں بہانے بناتا تھا۔
    دیکھنا جب بڑھاپے میں مجھے کمپیوٹر اور نئی چیزوں کی سمجھ نہ آئے تو میرے اوپر ہنسنے کے بجائے مجھے وقت دینا اور سکھانے کی کوشش کرنا اور یاد کرنا میں نے تمھیں بہت سی چیزیں سکھائیں، اچھی طرح کھانا کھانا، صحیح طرح کپڑے پہننا ، زندگی کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا تمھیں کس نے سکھایا؟
    جب کبھی میں بھول جاؤں یا بولتے بولتے گفتگو کا سرا میرے ہاتھ سے نکل جائے تو مجھے یاد آنے کے لیے وقت دینا اور اگر مجھے یاد نہ بھی آئے تو محسوس نہ کرنا کیونکہ اصل بات گفتگو نہیں ہے بلکہ اصل بات تو یہ ہے کہ تم میرے پاس بیٹھے رہو اور مجھے سنتے رہو۔
    جب کبھی میرا کچھ کھانے پینے کو جی نہ چاہے تو مجھ پر جبر نہ کرنا، مجھے پتا ہے کب مجھے کھانا ہے اور کب نہیں کھانا۔
    بیٹے جب میری کمزور ٹانگیں میرا سہارا نہ بن سکیں تو میرا ہاتھ تھام لینا بالکل اسی طرح جیسے میں نے تمھارا ہاتھ تھاما تھا جب تم اپنی زندگی کا پہلا قدم چلنے لگے تھے۔
    بیٹے جب کبھی میں تمھیں کہوں کہ اب میں زندہ نہیں رہنا چاہتا تو مجھ سے ناراض نہ ہونا کیونکہ یہ بات تمھیں دیر سے سمجھ میں آئے گی کہ میری عمر میں جیا نہیں جاتا بلکہ زندہ رہا جاتا ہے۔
    کسی دن تم اس بات کو بھی پالوگے کہ اپنی تمام تر غلطیوں اور کوتاہیوں کے باوجود میں نے تمھارے لیے ہمیشہ بہترین چیز اور بہترین راستے کا انتخاب کیا ہے
    اپنے بوڑھے باپ کو دیکھ کر غمگین نہ ہونا، غصے میں اپنے آپ کو لاچار یا مجبور نہ سمجھنا بلکہ میرے پاس رہنا اور میری مدد کرنا،جس طرح میں نے تمھاری مدد کی تھی جب تم اپنی زندگی کا آغاز کررہے تھے۔ تم صبر سے اور محبت سے میرا ہاتھ تھام کر میرے راستے پر چلانا اس کے بدلے میں میں تمھیں اپنی مسکراہٹ دوں گا اور اپنا پیار دوں گا۔
    حکیم لقمان بہت دانا شخص تھے ۔ ان کی تعریف قرآن نے ان الفاظ میں کی ہے کہ ہم نے لقمان کو حکمت یعنی دانائی عطا کی تھی اسی لیے وہ اللہ کا بہت شکر گزار تھا۔لقمان حکیم نے بھی اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت اپنے بیٹے کو اپنے پاس بلا کر کچھ نصیحتیں کی تھیں۔
    پہلی بات انہوں نے اپنے بیٹے کو یہ کہی کہ بیٹے اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔
    حضرت لقمان کی دوسری نصیحت یہ تھی کہ بیٹا کوئی عمل جو خواہ رائی کے دانے کی طرح چھوٹا ہو اور وہ پھر اسے کسی چٹان کے اندر چھپ کر یا آسمانوں کی پنہائیوں میں کیا جائے یا زمین کے اندر گھس کر کیا جائے اللہ اسے قیامت کے دن نکال لائے گا کیونکہ اللہ بڑا باریک بین اور خبردار ہے۔
    تیسری نصیحت حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو یہ کی کہ اے میرے بیٹے نماز قائم رکھنا، نیکی کا حکم دیتے رہنا اور بدی سے منع کرتے رہنا اور جو مصیبت تم پر پڑے اس پر صبر کرنا کیونکہ یہ بہت ہمت کا کام
    ہے
    حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو چوتھی نصیحت یہ کی کہ لوگوں کے لیے اپنے گال پُھلا کر نہ رکھنا اور زمین پر اکڑ کرنہ چلنا کیونکہ اللہ کو اترانے والے شیخی خورے پسند نہیں ہیں۔
    پانچویں نصیحت یہ کہ اپنی چال میں اعتدال پیدا کر اور بولتے وقت اپنی آواز کو پست رکھ کیونکہ سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے۔
    قرآن نے جہاں باپ کا ذکر کیا جو اپنے بیٹے کو نصیحتیں کرتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو کس طرح گزارے کہ وہ ایک کامیاب انسان بن جائے بالکل اسی طرح قرآن بیٹے کو بھی نصیحت کرتا ہے کہ وہ والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔
    حضرت لقمان کی ان نصیحتوں کا ذکر تو سورة لقمان میں آیا ہے۔جبکہ سورة بنی اسرائیل میں اللہ تعالی بیٹوں کو انکے والدین کے حق میں یوں نصیحت فرماتے ہیں۔ تمھارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اسکے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تمھارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو اُف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور ان سے بات ادب کے ساتھ کرنا۔ اور ادب سے ان کے آگے جھکے رہنا اور انکے حق میں دعا کرو کہ اے پروردگار جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں شفقت سے پالا ہے تو بھی انکے حال پر اسی طرح رحم فرما۔ جو کچھ تمھارے دلوں میں ہے تمھارا پروردگا اس سے بخوبی واقف ہے اگر تم نیک ہوگے تو وہ رجوع کرنے والوں کو بخش دینے والا ہے اور رشتہ داروں اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو اور فضول خرچی میں مال نہ اڑاؤ اس لیے کہ فضول خرچی کرنے والے تو شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان تو اپنے رب کی نعمتوں کا کفر کرنے والا ہے
    والدین کو اولاد سے بڑی امیدیں ہوتی ہیں اور والدین اپنے آپ کو اولاد پر کھپادیتے ہیں۔ بدلے میں وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد انکی فرمانبردار ہو اور انکے بڑھاپے کا سہارا بنے بظاہر تو اس بات میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی لیکن قرآن نے اولاد اور مال سے ایسی امیدیں لگانے روکا ہے۔ سورة الکہف کا اس حوالے سے خاص ہی مقام ہے۔ فرمایا گیا کہ یہ مال اور اولاد محض دنیاوی زندگی کی زینت ہیں۔ اصل میں باقی رہنے والی چیز تو نیکیاں ہیں، جو تیرے رب کے نزدیک زیادہ بہتر ہیں نتیجے کے اعتبار سے بھی اور امید لگانے کے اعتبار سے بھی ۔ یعنی قرآن نے بین السطور بتادیا ہے کہ مال اور اولاد امید لگانے کی چیز نہیں ہیں۔امید لگانی ہے تو اپنے عمل سے لگاؤ
    ۔
    Last edited by Arslan; 07-08-2012 at 01:10 AM.
    .
    bddsv - My Beloved Son..!!

  2. #2
    Join Date
    Jul 2010
    Location
    london
    Age
    27
    Posts
    153
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    31 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    8

    Default Re: My Beloved Son..!!

    masha ALLAH. very nice

  3. #3
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    Karachi,Pakistan
    Posts
    11,803
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    16 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    21474855

    Default Re: My Beloved Son..!!

    buhut khoobsurat........../4u

    kia hain hum..hum bhool jatey hain ke bachpan mein humarey maa baap ne humein bolna seekhaya humari behtreen parwarish ki zindagi ke gur seekhaye ..unhi maa baap ko jab burhapey mein ja kar humari care ki zarorat hoti hai tu hum unka saath chor jatey hain unko jharak dete hain jhunjhula jatey hain..

    aisa kyun hota hai????
    Alhamdullilah

  4. #4
    Join Date
    Jul 2010
    Location
    Karachi....
    Posts
    31,280
    Mentioned
    41 Post(s)
    Tagged
    6917 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474875

    Default Re: My Beloved Son..!!

    bhtt hi khoobsurat

    mughy maloom hota Mish to mein bata deti u ko
    but ye meri samajh se bahir hai
    Last edited by SenoriTa; 21-10-2010 at 04:38 PM.


    Ik Muhabbat ko amar karna tha.....

    to ye socha k ..... ab bichar jaye..!!!!


  5. #5
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Canada
    Posts
    25,300
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    442 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    11381699

    Default Re: My Beloved Son..!!

    Quote Originally Posted by Mishaal View Post
    buhut khoobsurat........../4u

    kia hain hum..hum bhool jatey hain ke bachpan mein humarey maa baap ne humein bolna seekhaya humari behtreen parwarish ki zindagi ke gur seekhaye ..unhi maa baap ko jab burhapey mein ja kar humari care ki zarorat hoti hai tu hum unka saath chor jatey hain unko jharak dete hain jhunjhula jatey hain..

    aisa kyun hota hai????
    As-Salamu-Aliqum WRWB
    Agar aulad ki perwarish Islami tareeqay si ki jaye tou I 100% assure u ke aisa nahi hota, lekin agar bachon ko society ke liye aur aam society ki taran brought up kia jaye tou woh aise he hoti hai.
    Is tehreer mein clear hai ke waldain apni aulad ko dunyawi faiday ke liye ziada aehmiyat detay hein na-ke un ke liye sadqa jariya ban-nay ke liye.
    Hazrat Luqmaan mein aur aaj ke Muslim mein farq bara saaf aur waziah hai.
    Unhon ne deen chuna, hum sirf duniya chuntay hein.
    aur dosri baat ke jaisay hum kertay hein waisa bhartay hein, ALLAH(SWT) jab chahay hamare aamal ka badla ise duniya mein day dey, aur woh aulad ko azmaish bana ker waldain ka imtihan letay hein.
    Waldain se Hasne Salook aulad ki pehli tarjeeh hoti hai aur aisa kerna bhi chaiye, magar jab waldain he apnay bachon ko sahi guide nahi karein gey aur un k samnay apnay waldain ko mistreat krein gey tou bachay kia seekhay gey??
    shyd meri baat clear ho gaye ho

  6. #6
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Canada
    Posts
    25,300
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    442 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    11381699

    Default Re: My Beloved Son..!!

    As-Salamu-Aliqum WRWB
    likha hai
    bohat he aeham aur khas issue per aur bohat he behtreen examples ke sath
    bohat he khoob
    likhtay rahiye aur hm se share kertay rahiye

  7. #7
    Join Date
    Apr 2010
    Location
    CHanDi ChOwK
    Age
    26
    Posts
    907
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474844

    Default Re: My Beloved Son..!!

    Aap Sab Doston Ka Boht Shukriya..
    .
    bddsv - My Beloved Son..!!

  8. #8
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    Karachi,Pakistan
    Posts
    11,803
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    16 Thread(s)
    Thanked
    2
    Rep Power
    21474855

    Default Re: My Beloved Son..!!

    Quote Originally Posted by Hijab View Post

    As-Salamu-Aliqum WRWB
    Agar aulad ki perwarish Islami tareeqay si ki jaye tou I 100% assure u ke aisa nahi hota, lekin agar bachon ko society ke liye aur aam society ki taran brought up kia jaye tou woh aise he hoti hai.
    Is tehreer mein clear hai ke waldain apni aulad ko dunyawi faiday ke liye ziada aehmiyat detay hein na-ke un ke liye sadqa jariya ban-nay ke liye.
    Hazrat Luqmaan mein aur aaj ke Muslim mein farq bara saaf aur waziah hai.
    Unhon ne deen chuna, hum sirf duniya chuntay hein.
    aur dosri baat ke jaisay hum kertay hein waisa bhartay hein, ALLAH(SWT) jab chahay hamare aamal ka badla ise duniya mein day dey, aur woh aulad ko azmaish bana ker waldain ka imtihan letay hein.
    Waldain se Hasne Salook aulad ki pehli tarjeeh hoti hai aur aisa kerna bhi chaiye, magar jab waldain he apnay bachon ko sahi guide nahi karein gey aur un k samnay apnay waldain ko mistreat krein gey tou bachay kia seekhay gey??
    shyd meri baat clear ho gaye ho
    be shak insaan jo boota hai wahi kat'ta hai..
    Insaan ke apney aimaal hi agey atey hain..

    Is liye hi kaha jata hai waldain ki khidmat karo ke agey chal kar tumhari aulaad bhi tumhari khidmat karey !
    Alhamdullilah

  9. #9
    Join Date
    Apr 2010
    Location
    CHanDi ChOwK
    Age
    26
    Posts
    907
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474844

    Default Re: My Beloved Son..!!

    shukriya jee ap kii hosla afzaye ka
    Last edited by InNoCeNT ROmEO; 27-10-2010 at 05:54 PM.
    .
    bddsv - My Beloved Son..!!

  10. #10
    Join Date
    Jul 2010
    Location
    Wah cantt
    Age
    25
    Posts
    2,155
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    3 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474846

    Default Re: My Beloved Son..!!


Page 1 of 2 12 LastLast

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •