Results 1 to 3 of 3

Thread: اُردو محا ورات اور زبان وبیان میں اُس کی اہ

  1. #1
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    candel اُردو محا ورات اور زبان وبیان میں اُس کی اہ



    اُردو محا ورات اور
    زبان وبیان میں اُس کی اہمیت



    آب حیات میں مولانا محمد حسن آزاد نے میر سوزؔکا ذکر کرتے ہو ئے یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ ایک دن سوداؔکے ہاں میرسوزؔ تشریف لا ئے ۔ان دنوں شیخ حزیںؔ کی غزل کا چرچا تھا جس کا مطلع ہے ۔
    می گر فتیم بجا تا سرِ راہے گا ہے
    اُد ہم از لطفِ نہا ں داشت نگا ہے گا ہے
    میرؔ سوز مر حوم نے اپنا مطلع پڑ ھا ۔
    نہیں نکے ہے مرے دل کی اَپا ہے گا ہے
    اے مُلک بہرِ خُدا رخصتِ آہے گا ہے
    مرزا سن کر بو لے کہ میر صا حب بچپن میں ہما رے ہا ں پشور کی ڈو نیا ں آیا کرتی تھیں یا جب یہ لفظ سنا تھا یاآج سنا ۔ میر سوز بچا رے ہنس کر چپ ہو رہے ۔
    پشا ور کی ڈومنیاں جو کہ نکسے اور اَیا ہے بو لتی تھیں فا رسی غزلوں کے بجا ئے ہندی چیز یں سنا تی ہونگی جو ان دنوں قریب الفہم اور مقبولِ عا م تھیں ۔
    خلا صہ اس گفتگو کا یہ ہے کہ اردو جو کھڑی بو لی کا ایک مخصوص روپ ہے عوام کی بولی چال کی زبان بنی اور ا س نے پہلی بار ان کے جذبہ اظہا ر کو زبان دی ادبی زبان اور بول چا ل کے فرق کو مٹا یا چنانچہ اٹھا رویں صدی پر دہلوی شعر اء کاکلام با لعموم اسی لسانی اصول کا پا بنداور آئینہ دار ہے ۔
    آ گے چل کر جب مرزا مظہر جا نجاناں � حا تم سودا نا سخ شا ہ نصیراور ذوقؔ نے اپنے اپنے نقطہ ہا ئے نظر کے مطا بق اصلا ح زبان کا کام کیا تو دہلی میںگاہ گا ہ متروک الفا ظ ومحا ورات کے سا تھ ساتھ جو قدیم لب ولہجے کی گونج سنا ئی دیتی رہی اس کا سہرا مردوں سے زیادہ عورتوںکے سر ہے عورتیں زبان کے معا ملے میں قدا مت پسند ہو تی ہیں مردوں کے مقا بلے میں ان کا ملنا جُلنابا ہر والوںسے کم ہوتا ہے نیز مختلف النوع اقوام اور بھانت بھانت کی زبان بولنے والوں سے بعد کی وجہ سے ان کی زبان بگڑ نے سے محفوظ رہتی ہے عورتوں کی نما یاں خصوصیت انتخابِالفا ظ کے سلسلے میں یہ ہے کہ وہ کریہہ الفا ظ کی جگہ لطیف الفا ظ استعمال کر تی ہیں ان جزوی اختلافاتِ زبان کے علا وہ انتہا ئی نما یا ں خصوصیت مردوں اور عورتوں کی زبان کے اختلاف کی یہ ہے کہ عورتیں جنسیات سے متعلق باتیں واضح الفا ظ میں کہنے کے بجا ئے اشارے اور کنا ئے میں بیان کر تی ہیں بیگمات کی زبان میں ہر قسم کاجنسی افعال کے لئے پر دہ پو ش اصطلا حا ت ومحا ورات مو جود ہیں مثلاً میلے سر سے ہو نا، گو د میںپھول جھڑنا، دو جیاںہونا بات کر نا جیسے متعدد محا ورے عورتوں نے مختلف کیفیات کو ظا ہر کر نے کے لئے بنائے اور اُن کا چلن عا م کیا ۔

    جو ہو نی تھی وہ بات ہو ئی کہا روں
    چلو لے چلو میری ڈولی کہا ر وں
    مُر دُواکہتاہے آؤ چلو آرام کریں
    جس کو اَرام یہ سمجھے ہے وہ آرام ہو نوج ۔
    Last edited by Arslan; 07-08-2012 at 12:43 AM.

  2. #2
    Join Date
    Nov 2010
    Location
    Pakistan
    Posts
    677
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    2950 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    21474844

    Default Re: اُردو محا ورات اور زبان وبیان میں اُس کی اہ

    thanx for sharing...

  3. #3
    Join Date
    Mar 2010
    Location
    ممہ کہ دل میں
    Posts
    40,298
    Mentioned
    32 Post(s)
    Tagged
    4710 Thread(s)
    Thanked
    4
    Rep Power
    21474884

    Default Re: اُردو محا ورات اور زبان وبیان میں اُس کی اہ

    super...

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •