Results 1 to 4 of 4

Thread: biography of Allama Muhammad Iqbal محمد اقبال

  1. #1
    Join Date
    Dec 2010
    Location
    خلا سے خلا تک
    Posts
    84
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    Default biography of Allama Muhammad Iqbal محمد اقبال


    muhammad iqbal urdu poet - biography of Allama Muhammad Iqbal محمد اقبال

    پیدائشی نام محمد اقبال
    تخلص اقبال
    ولادت 9 نومبر 1877ء، سیالکوٹ
    ابتدا سیالکوٹ
    وفات 21 اپریل 1938ء، لاہور
    اصناف ادب شاعری
    نثر
    ذیلی اصناف نظم
    غزل
    معروف تصانیف بانگ درا
    بال جبریل
    ضرب کلیم
    پیام مشرق

    ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال (9 نومبر 1877ء تا 21 اپریل 1938ء) بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجۂ شہرت ہے۔ شاعری میں بنیادی رجحان تصوف اور احیائے امت اسلام کی طرف تھا۔ "دا ریکنسٹرکشن آف ریلیجس تھاٹ ان اسلام" کے نام سے انگریزی میں ایک نثری کتاب بھی تحریر کی جس کو بعض مسلم ممالک میں متنازع سمجھا جاتا ہے جبکہ سعودی عرب میں اس پر پابندی عائد ہے۔ علامہ اقبال کو دور جدید کا صوفی سمجھا جاتا ہے۔ بحیثیت سیاستدان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریۂ پاکستان کی تشکیل ہے جو انہوں نے 1930ء میں الہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پیش کیا تھا۔ یہی نظریہ بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔ اسی وجہ علامہ اقبال کو پاکستان کا نظریاتی باپ سمجھا جاتا ہے۔ گو کہ انہوں نے اس نئے ملک کے قیام کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن انہیں پاکستان کے قومی شاعر کی حیثیت حاصل ہے۔
    ولادت و ابتدائی زندگی

    علامہ اقبال 9 نومبر 1877ء (بمطابق 3 ذیقعد 1294ھ) کو برطانوی ہندوستان کے شہر سیالکوٹ میں شیخ نور محمد کے گھر پیدا ہوئے۔ ماں باپ نے نام محمد اقبال رکھا۔ مختلف تاریخ دانوں کے مابین علامہ کی تاریخ ولادت پر کچھ اختلافات رہے ہیں لیکن حکومت پاکستان سرکاری طور پر 9 نومبر 1877ء کو ہی ان کی تاریخ پیدائش تسلیم کرتی ہے۔
    اقبال کے آبا+ ؤ اجداد اٹھارویں صدی کے آخر یا انیسویں صدی کے اوائل میں کشمیر سے ہجرت کر کے سیالکوٹ آئے اور محلہ کھیتیاں میں آباد ہوئے
    تعلیم


    علامہ نے ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں ہی حاصل کی اور مشن ہائی سکول سے میٹرک اور مرے کالج سیالکوٹ سے ایف اے کا امتحان پاس کیے۔ زمانہ طالبعلمی میں انھیں میر حسن جیسے استاد ملے جنہوں نے آپ کی صلاحیتوں کو بھانپ لیا۔ اور ان کے اوصاف خیالات کے مطابق آپ کی صحیح رہنمائی کی۔ شعر و شاعری کا شوق بھی آپ کو یہیں پیدا ہوا۔ اور اس شوق کو فروغ دینے میں مولوی میر حسن کا بڑا دخل تھا۔
    اعلیٰ تعلیم


    ایف اے کرنے کے بعد آپ اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور چلے گئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پاس کیے یہاں آپ کو پرفیسرآرنلڈ جیسے فاضل شفیق استاد مل گئے جنہوں نے اپنے شاگرد کی رہنمائی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔
    سفر یورپ


    1905 میں علامہ اقبال اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے اور کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور پروفیسر براؤن جیسے فاضل اساتذہ سے رہنمائی حاصل کی ۔ بعد میں آپ جرمنی چلے گئے جہاں میونخ یونیورسٹی سے آپ نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
    تدریس اور وکالت


    ابتداء میں آپ نے ایم اے کرنے کے بعد اورینٹل کالج لاہور میں تدریس کے فرائض سرانجام دیئے لیکن آپ نے بیرسٹری کو مستقل طور پر اپنایا۔ وکالت کے ساتھ ساتھ آپ شعروشاعری بھی کرتے رہے اور سیاسی تحریکیوں میں بھرپور انداز میں حصہ لیا۔ 1922ء میں حکومت کی طرف سے سر کا خطاب ملا۔
    سیاست






    1926ء میں آپ پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی کے ممبر چنے گئے۔ آپ آزادی وطن کے علمبردار تھے اور باقاعدہ سیاسی تحریکوں میں حصہ لیتے تھے۔ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے اور آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے آپ کا الہ آباد کا مشہور صدارتی خطبہ تاریخی حیثیت رکھتا ہے اس خطبے میں آپ نے پاکستان کا تصور پیش کیا۔ 1931ء میں آپ نے گول میز کانفرنس میں شرکت کرکے مسلمانوں کی نمائندگی کی۔ آپ کی تعلیمات اور قائداعظم کی ان تھک کوششوں سے ملک آزاد ہوگیا اور پاکستان معرض وجود میں آیا۔ لیکن پاکستان کی آزادی سے پہلے ہی 21 اپریل 1938ء (بمطابق 20 صفر 1357ھ[3]) میں علامہ انتقال کر گئے تھے۔ لیکن ایک عظیم شاعر اور مفکر کے طور پر قوم ہمیشہ ان کی احسان مند رہے گی۔ جس نے پاکستان کا تصور پیش کرکے برصغیر کے مسلمانوں میں جینے کی ایک نئی آس پیدا کی
    شاعری


    شاعر مشرق علامہ اقبال حساس دل و دماغ کے مالک تھے آپ کی شاعری زندہ شاعری ہے جو ہمیشہ مسلمانوں کے لیے مشعل راہ بنی رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ کلام اقبال دنیا کے ہر حصے میں پڑھا جاتا ہے اور مسلمانان عالم اسےبڑی عقیدت کے ساتھ زیر مطالعہ رکھتے اور ان کے فلسفے کو سمجھتے ہیں۔ اقبال نے نئی نسل میں انقلابی روح پھونکی اور اسلامی عظمت کو اجاگر کیا۔ ان کے کئی کتابوں کے انگریزی ، جرمنی ، فرانسیسی، چینی ، جاپانی اور دوسرے زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔ جس سے بیرون ملک بھی لوگ آپ کے متعرف ہیں۔ بلامبالغہ علامہ اقبال ایک عظیم مفکر مانے جاتے ہیں




  2. #2
    Join Date
    Dec 2010
    Location
    خلا سے خلا تک
    Posts
    84
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    Default Re: Biography of Allama Muhammad Iqbal محمد اقبال

    اقبال کی نظموں کا فنی فکری تجزیہ


    • شکوہ

    یہ وہ شہر آفاق نظم ہے جو اپریل 1911ءکے جلسہ انجمن حمایت اسلام میں پڑھی گئی۔ لندن سے واپسی پر اقبال نے ریواز ہوسٹل کے صحن میں یہ نظم پڑھی ۔ اقبال نے یہ نظم خلاف معمول تحت اللفظ میں پڑھی۔ مگر انداز بڑا دلا ویز تھا ۔ اس نظم کی جو کاپی اقبال اپنے قلم سے لکھ کر لائے تھے اس کے لئے متعدد اصحاب نے مختلف رقوم پیش کیں اور نواب ذوالفقار علی خان نے ایک سوروپے کی پیشکش کی اور رقم ادا کرکے اصل انجمنِ پنجاب کو دے دی۔ ”شکوہ“ اقبال کے دل کی آواز ہے اس کا موثر ہونا یقینی تھا۔ اس سے اہل دل مسلمان تڑپ اُٹھے اور انہوں نے سوچنا شروع کیا کہ مسلمانوں کے حوصلہ شکن زوال کے اسباب کیا ہیں۔ آخر اللہ کے وہ بندے جن کی ضرب شمشیر اور نعرہ تکبیر سے بڑے بڑے قہار و جبار سلاطین کے دل لرز جاتے تھے کیوں اس ذلت و رسوائی کا شکار ہوئے؟ ۔ یہ نظم دراصل مسلمانوں کے بے عملی ، مذہب سے غفلت اور بیزاری پر طنز ہے۔ بانگ درا میں شامل کرتے وقت اقبال نے اس میں کئی مقامات پر تبدیلی کی۔ جبکہ بانگ درا میں اشاعت سے پہلے نظم مختلف رسالوں مثلاً مخزن، تمدن اور ادیب میں شائع ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ کئی زبانوں میں اس کے تراجم بھی ہو چکے ہیں۔
    • جواب شکوہ

    ”شکوہ“ کے جواب میں نظمیں دیکھ کراقبال کو خود بھی دوسری نظم ”جواب شکوہ“ لکھنی پڑی جو1913کے ایک جلسہ عام میں پڑھ کر سنائی گئی۔ انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں ”شکوہ “ پڑھی گئی تو وسیع پیمانے پر اس کی اشاعت ہوئی یہ بہت مقبول ہوئی لیکن کچھ حضرات اقبال سے بدظن ہوگئے اور ان کے نظریے سے اختلاف کیا۔ ان کا خیال تھا کہ ”شکوہ“ کا انداز گستاخانہ ہے۔ اس کی تلافی کے لئے او ریوں بھی شکوہ ایک طرح کا سوال تھا جس کا جواب اقبال ہی کے ذمے تھا۔ چنانچہ ڈیڑ ھ دو سال کے عرصے کے بعد انہوں نے ”جواب شکوہ“ لکھی۔ یہ 1913ءکے جلسے میں پڑھی گئی۔ جو نماز مغرب کے بعد بیرونی موچی دروازہ میں منعقد ہواتھا۔ اقبال نے نظم اس طرح پڑھی کہ ہر طرف سے داد کی بوچھاڑ میں ایک ایک شعر نیلام کیا گیا اور اس سے گراں قدر رقم جمع کرکے بلقان فنڈ میں دی گئی۔ شکوہ کی طرح سے ”جواب شکوہ“ کے ترجمے بھی کئی زبانوں میں ملتے ہیں
    • خصر راہ

    ”خضر راہ“نظم اقبال نے انجمن حمایت اسلام کے 37 ویں سالانہ اجلاس میں جو 12 اپریل 1922ءاسلامیہ ہائی سکول اندرون شیرانوالہ میں منعقد ہوا تھا میں ترنم سے پڑھ کر سنائی۔ بعض اشعار پر اقبال خود بھی بے اختیار روئے اور مجمع بھی اشکبار ہو گیا۔ عالم اسلام کے لئے وہ وقت بہت نازک تھا۔ قسطنطنیہ پر اتحادی قابض تھے ۔ اتحادیوں کے ایماءپر یونانیوں نے اناطولیہ میں فوجیں اتار دی تھیں۔ شریف حسین جیسے لوگ انگریزوں کے ساتھ مل کر اسلام کا بیڑہ غرق کرنے میں پیش پیش تھے۔ خود ہندوستان میں تحریک ہجرت جاری ہوئی۔ پھر خلافت اور ترک موالات کا دور شروع ہوا۔ ادھر دنیائے اسلام کے روبرو نئے نئے مسائل آگئے۔ اقبال نے انہی میں سے بعض اہم مسائل کے متعلق حضرت خضر کی زبان سے مسلمانوں کے سامنے صحیح روشنی پیش کی۔ اور نظم کا نام خضر راہ اسی وجہ سے رکھا۔ ابتداءمیں نظم میں صرف دو عنوان تھے۔ پہلے دو بندوں کا عنوان تھا ”شاعر“ یعنی شاعر کا خضر سے خطاب باقی نو بندوں کا عنوان تھا ”جواب خضر “ نظر ثانی میں اقبال نے مختلف مسائل پر الگ الگ عنوان قائم کر دئیے۔
    • والدہ مرحومہ کی یاد میں

    یہ نظم اقبال نے اپنی والدماجدہ کی وفات پر ان کی یاد میں لکھی ۔ اسے مرثیہ بھی کہا جاتا ہے۔ اولین شکل میں اس کے گیارہ بنداور 89 اشعار تھے ۔ ”بانگ درا“کی میں شامل کرتے وقت اقبال نے اس میں تبدیلی کی اور موجودہ شکل میں نظم کل تیرہ بندوں اور چھیاسی اشعار پر مشتمل ہے۔ علامہ اقبال کی والدہ ماجدہ کانام امام بی بی تھا۔ وہ ایک نیک دل ، متقی اور سمجھ دار خاتون تھیں۔ گھر میں انہیں بے جی کہا جاتا تھا۔ وہ بالکل اَ ن پڑھ تھیں مگر ان کی معاملہ فہی ، ملنساری اور حسنِ سلوک کے باعث پورا محلہ ان کا گروید ہ تھا۔ اکثر عورتیں ان کے پاس اپنے زیورات بطور امانت رکھواتیں۔ برادری میں کوئی جھگڑا ہوتا تو بے جی کو سب لوگ منصف ٹھہراتے اور وہ خوش اسلوبی سے کوئی فیصلہ کر دیتیں ۔ اقبال کو اپنی والدہ سے شدید لگائو تھا۔ والدہ بھی اقبال کو بہت چاہتی تھیں زیر نظر مرثیے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب اقبال یورپ گئے تو والدہ ماجدہ ان کی بخیریت واپسی کے لئے دعائیں مانگتیں اور ان کے خط کی ہمیشہ منتظر رہتیں۔ ان کا انتقال اٹھتر سال کی عمر میں 9نومبر 1914ءکو سیالکوٹ میں ہوا۔ والدہ مرحومہ کی وفات پر اقبال کو سخت صدمہ ہوا۔ اور وہ مہینوں دل گرفتہ رہے ۔ اور انہوں نے اپنی ماں کی یاد میں یہ یادگار نظم لکھی۔
    Last edited by Aisha Baig; 16-12-2010 at 03:58 AM.

  3. #3
    Join Date
    Dec 2010
    Location
    خلا سے خلا تک
    Posts
    84
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    Default Re: biography of Allama Muhammad Iqbal محمد اقبال

    تصورات و نظریات

    • خودی


    جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
    پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
    سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں
    ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے
    اقبال کا پیغام یا فلسفہ حیات کیا ہے اگر چاہیں تو اس کے جواب میں صرف ایک لفظ خودی کہہ سکتے ہیں اس لئے کہ یہی ان کی فکر و نظر کے جملہ مباحث کا محور ہے اور انہوں نے اپنے پیغام یا فلسفہ حیات کو اسی نام سے موسوم کیا ہے۔ اس محور تک اقبال کی رسائی ذات و کائنات کے بارے میں بعض سوالوں کے جوابات کی تلاش میں ہوئی ہے۔ انسان کیا ہے؟ کائنات اور اس کی اصل کیا ہے؟ آیا یہ فی الواقع کوئی وجود رکھتی ہے یا محض فریب نظر ہے؟ اگر فریب نظر ہے تو اس کے پس پردہ کیاہے؟ اس طرح کے اور جانے کتنے سوالات ہیں جن کے جوابات کی جستجو میں انسان شروع سے سرگرداں رہا ہے۔اس طرح کے سوالات جن سے انسان کے وجود کا اثبات ہوتا ہے۔ اردو شاعری میں اقبال سے پہلے غالب نے بھی اُٹھائے تھے۔
    لیکن اقبا ل کے سوالات و جوابات کی نوعیت اس سلسلے میں غالب سے بہت مختلف ہے، یہ غالب نے عالم تمام حلقہ دامِ خیال ہے اور ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے۔ کے عقیدے سے قطع نظر کرکے ، وجدانی طور پر ایک لمحے کے لئے محسوس کیا ہے اسے بیان کر دیا ہے اقبال نے ان سوالوں کے جواب میں دلائل و برہان سے کام لیا ہے۔ اور اسے ایک مستقل فلسفہ حیات میں ڈھال دیا ہے۔
    اگر گوئی کہ من وہم و گماں است
    نمودش چوں نود ایں و آں است
    یہی فلسفہ حیات ہے جو بعض عناصرِخاص سے ترکیب پا کر اقبال کے یہاں مغرب و مشرق کے حکمائے جدید سے بالکل الگ ہوگیا ہے اس کا نام فلسفہ خودی ہے اور اقبال اسی کے مفسر و پیغامبر ہیں ۔ اس فلسفے میں خدابینی و خودبینی لازم و ملزوم ہیں۔ خود بینی ، خدابینی میں سے خارج نہیں بلکہ معاون ہے۔ خودی کا احساس ذات خداوند ی کا ادراک اور ذات ِ خداوندی کا ادراک خودی کے احساس کا اثبات و اقرار ہے خدا کو فاش تر دیکھنے کے لئے خود کو فاش تر دیکھنا از بس ضروری ہے۔ اگر خواہی خُدارا فاش دیدن
    خودی رافاش تر دیدن بیا موز

    • عقل و عشق


    عشق عربی زبان کا لفظ ہے محبت کا بلند تر درجہ عشق کہلاتا ہے اور یہی محبت کسی درجے پر جا کر جنوں کہلاتی ہے۔ عشق کا محرک مجازی یا حقیقی ہو سکتا ہے۔ یہ عشق نا ممکن کو ممکن بنا ڈالتا ہے ۔ کہیں فرہاد سے نہر کھد واتا ہے تو کہیں سوہنی کو کچے گھڑے پر تیرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ عشق ہی کی بدولت کوئی صدیق اکبر کہلاتا ہے تو کوئی سیدنا بلال بنتا ہے۔ غرض ہر عشق کے مدارج مختلف ہیں۔ کوئی عشق مجازی میں ہی گھر کر رہ جاتا ہے۔ تو کوئی عشق ِ مجازی سے حقیقی تک رسائی حاصل کرکے حقیقی اعزازو شرف حاصل کرتا ہے۔
    اقبال کے یہاں عشق اور ان کے مترادفات و لوازمات یعنی وجدان ، خود آگہی، باطنی شعور ، جذب ، جنون ، دل ، محبت ، شوق ، آرزو مندی ، درد ، سوز ، جستجو، مستی اور سرمستی کا ذکر جس تکرار، تواتر، انہماک سے ملتا ہے ۔اُس سے ثابت ہوتا ہے کہ اقبال کے تصورات میں عشق کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اقبال کے نزدیک عشق ایک عطیہ الہٰی اور نعمت ازلی ہے۔ انسانوں میں پیغمبروں کا مرتبہ دوسروں سے اس لیے بلند تر ہے کہ ان کا سینہ محبت کی روشنی سے یکسر معمور اور ان کا دل بادہ عشق سے یکسر سرشار ہے۔محبت جسے بعض نے فطرت ِ انسانی کے لطیف ترین حسی پہلو کا نام دیا ہے۔ اور بعض نے روح ِ انسانی پر الہام و وجدان کی بارش یا نورِ معرفت سے تعبیر کیا ہے۔اس کے متعلق اقبال کیا کہتے ہیں اقبال ہی کی زبان سے سنتے چلیے ، یہ ان کی نظم محبت سے ماخوذ ہے۔
    تڑپ بجلی سے پائی ، حور سے پاکیزگی پائی
    حرارت لی نفس ہائے مسیح ِ ابن مریم سے
    ذرا سی پھر ربو بیت سے شانِ بے نیازی لی
    ملک سے عاجزی ، افتادگی تقدیر ِ شبنم سے
    پھر ان اجزاءکو گھولا چشمہ حیوان کے پانی میں
    مرکب نے محبت نام پایا عرشِ اعظم سے
    یہ ہے وہ محبت کا جذبہ عشق جو اقبال کے دائرہ فکر و فن کا مرکزی نقطہ ہے۔ یہی تخلیق کا ئنات سے لے کر ارتقائے کائنات تک رموزِ فطرت کا آشنا اور کارزارِ حیات میں انسان کا رہنما و کار کُشا ہے۔ بقول اقبال کائنات کی ساری رونق اسی کے دم سے ہے۔ ورنہ اس سے پہلے ، اس کی فضا بے جان اور بے کیف تھی۔
    عشق از فریادِ ما ہنگامہ ہا تعمیر کرد!
    ورنہ ایں بزمِ خموشاں ہیچ غوغائے نداشت

    • مرد مومن


    اقبال کے افکار میں مرد مومن یا انسان کاملکا ذکر جا بجا ملتا ہے۔ اس کے لئے وہ مرد حق بندہ آفاقی بندہ مومن مرد خدا اور اس قسم کی بہت سی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں حقیقتاً یہ ایک ہی ہستی کے مختلف نام ہیں جو اقبال کے تصور خودی کا مثالی پیکر ہے۔
    نقطہ پرکار حق مرد خدا کا یقیں
    اور عالم تم ، وہم و طلسم و مجاز
    عالم ہے فقط مومن جانباز کی میراث
    مومن نہیں جو صاحب ادراک نہیں ہے
    ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ
    غالب وکار آفریں ، کار کشا ، کارساز
    کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا
    نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہےں تقدیریں
    غرض یہ مثالی ہستی اقبال کو اتنی محبوب ہے کہ باربار اس کا ذکر کرتے ہیں اس سلسلہ میں جو سوالات اٹھائے گئے ہیں ان میں سے اہم یہ ہیں کہ اقبال نے مرد مومن ک تصور کو کہاں سے اخذ کیا ہے؟ ان کے مرد مومن کی صفات کیا ہیں؟ ان کا یہ تصور محض تخیلی ہے یا کوئی حقیقی شخصیت ان کے لئے مثال بنی ہے۔ ان سوالات کا جوابات ان کے کلام کے گہر ے مطالعے کے بعد دیا جا سکتا ہے۔
    اس بارے میں مختلف آرا ءملتی ہیں کہ اقبال نے مرد مومن کا تصور کہاں سے اخذ کیاہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کی اساس خالصتاً اسلامی تعلیمات پر ہے اور اس سلسلہ میں اقبال نے ابن مشکویہ اور عبدالکریم الجیلی جیسے اسلامی مفکرین سے بھی استفادہ کیا ہے۔ ایک گروہ اس تصور کو مغربی فلسفی نیٹشے کے فوق البشر کا عکس بتاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اقبال نے خیال قدیم یونانی فلاسفرز سے حاصل کیا ہے۔ اور کچھ اسے مولانا روم کی دین قرار دیتے ہیں۔ اس لئے ان تمام مختلف اور متضاد آراءکے پیش نظر ضروری ہے کہ مرد مومن کے متعلق بات کرنے سے قبل ان افکار کا جائزہ لیا جائے جو مشرق اور مغرب میں اقبال سے قبل اس سلسلہ میں موجود تھے۔ اور اقبال نے ان سے کس حد تک استفادہ کیا اس کا انداز ہ بھی ہم بخوبی لگا سکیں گے۔

    • وطنیت و قومیت


    مغربی تصور قومیت سے بدظنی


    جدید مغربی سےاسی افکار میں وطنیت اور قومیت قریب قریب ہم معنی ہیں ۔ اقبال نے وطنیت کے سیاسی تصور کو جس بناءپر رد کیا تھا وہی وجہ مغربی نظریہ قومیت سے ان کی بدظنی کی بنیاد بنی ان کا خیال تھا کہ قومیت کی ایک سیاسی نظا م کی حیثیت قطعاً غیر انسانی اقدار پر مشتمل ہے۔ اور اس کی بنیاد پر ایک انسانی گروہ دوسرے انسانی گروہ سے کٹ کر رہ جاتا ہے۔ اور بلا وجہ تنازعات کی بناءپڑتی ہے۔ جو بعض اوقات قیمتی انسانی جانوں کے اتلاف اور بلا خیز تباہی پر منتج ہوتی ہے۔ اسی نظام کو انہوں نے دنیائے اسلام کے لئے خاص طور پر ایک نہایت مہلک مغربی حربے کی حیثیت سے دیکھا اور جب ترکوں کے خلاف عرب ممالک نے انگریزوں کی مدد کی تو انہیں یقین ہوگیا کہ وطنیت اور قومیت کے مغربی تصورات مسلمانوں کے لئے زہر قاتل سے زیادہ نقصان ثابت ہو رہے ہیں ۔ چنانچہ انہوں نے قومیت کے مغربی تصور کے مقابلہ میں ملت اسلامیہ کا تصور پیش کیااور یہ ثابت کیا کہ مسلمانان ِ عالم کے لئے بنیادی نظریات اور اعتقادات کی رو سے ایک وسیع تر ملت کا تصور ہی درست ہے۔ اور قومیت کے مغربی نظریہ ہمیں بحیثیت ملت ان کی تباہی کے بے شمار امکانات پوشیدہ ہیں۔

    قوم اور ملت ہم معنی


    اقبال قوم اور ملت کو مترادف الفاظ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور مسلمان قوم سے ان کی مراد ہمیشہ ملت اسلامیہ ہوتی ہے۔ اس بارے میں وہ اپنے مضمون میں تحریر فرماتے ہیں۔ میں نے لفظ ملت قوم کے معنوں مےں استعمال کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عربی میں یہ لفظ اور بالخصوص قرآن مجید میں شرع اور دین کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ لیکن حال کی عربی، فارسی اور ترکی زبان میں بکثرت سندات موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ملت قوم کے معنوں میں بھی مستعمل ہے۔ میں نے اپنی تحریروں میں ملت بمعنی قوم استعمال کیا ہے۔

    آگے چل کر لکھتے ہیں۔
    ان گزارشات سے میرا مقصد یہ ہے کہ جہاں تک میں دیکھ سکا ہوں ، قران کریم میں مسلمانوں کے لئے امت کے سوا کوئی لفظ نہیں آیا۔ قوم رجال کی جماعت کا نام ہے۔ یہ جماعت با اعتبار قبیلہ ، نسل، رنگ ،زبان ، وطن اور اخلاق ہزار جگہ اور ہزار رنگ میں پیدا ہو سکتی ہے ۔لیکن ملت سب جماعتوں کو تراش کر ایک نیا اور مشترک گروہ بنائے گی۔ گویاملت یا امت جاذب ہے اقوام کی۔ خود ان میں جذب نہیں ہوتی۔
    اقبال کا تصور قومیت


    اقبال قومیت کے اس تصور کے خلاف ہیں جس کی بنیاد رنگ، نسل ،زبان یا وطن پر ہو ۔ کیونکہ یہ حد بندیاں ایک وسیع انسانی برادری قائم کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ ان کی قومیت کے اجزائے ترکیبی وحدت مذہب ، وحدت تمدن و تاریخ ماضی اور پر امید مستقبل ہیں۔ جہاں تک مذہب کا تعلق ہے اسلام اسی ملت کی اساس ہے۔ اور اسلام کا سب سے بڑا اور بنیادی اصول توحید خدا ملی وحدت کا ضامن ہے۔ اس کا دوسرا رکن رسالت ہے۔ اور یہی دو نوں اساس ملت ہیں۔ نہ کہ وطن جو جنگ اور ملک گیری کی ہوس پیدا کرتاہے۔

    اس سلسلہ میں اقبال نے اپنے ایک مضمون میں یوں لکھا ہے۔
    قدیم زمانہ میں دین قومی تھا۔ جیسے مصریوں ، یونانیوں اور ہندیوں کا۔ بعد میں نسلی قرار پایا جیسے یہودیوں کا ۔ مسحیت نے یہ تعلیم دی کہ دین انفرادی اور پرائیوٹ ہے۔ جس سے انسانوں کی اجتماعی زندگی کی ضامن سٹیٹ ہے۔ یہ اسلام ہی تھا جس نے بنی نو ع انسان کو سب سے پہلے یہ پیغام دیا کہ دین نہ قومی ہے نہ نسلی ہے، نہ انفرادی اور نہ پرائیوٹ ، بلکہ خالصتاً انسانی ہے۔ اور اس کامقصد باوجود فطری امتیازات کے عالم بشریت کو متحد اور منظم کر نا ہے۔
    ان باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقبال اخوت کے قائل ہیں لیکن اس کی بنیاد اسلام پر رکھتے ہیں کیونکہ اسلام ضابطہ حیات ہے جس کے پاس وسیع انسانی مسائل کا حل موجود ہے وہ قومیت کو اسلام کے دائرہ میں اس لئے رکھتے ہیں کہ ان کے نزدیک صحیح انسانی معاشرہ صرف اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہونے سے وجود میں آسکتا ہے۔ چنانچہ ان کے تصور قومیت کی بنیاد اسلامی معتقدات پر ہے۔وہ کہتے ہیں،
    قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
    جذب باہم جو نہیں، محفل ِ انجم بھی نہیں
    تو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سے
    نشہ قے کو تعلق نہیں پیمانے سے
    اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
    خاص ہے ترکیب میں قوم ِ رسولِ ہاشمی
    دامن دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں
    اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی
    اقوام جہاں میں ہے رقابت تو اسی سے
    تسخیر ہے مقصود تجارت تو اسی سے
    خالی ہے صداقت سے سیاست تو اسی سے
    کمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسی سے
    اقوام میں مخلوق خدا بٹتی ہے اس سے
    قومیت اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے
    ملت کے لئے اخوت کی ضرورت





    منفعت ایک ہے اسی قوم کی نقصان بھی ایک
    ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایک
    حرم پاک بھی ، اللہ بھی قرآن بھی ایک
    کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
    اسلام نے عالم ِ انسانیت میں ایک انقلابِ عظیم کو بپا کرکے انسان کو رنگ و نسل ، نام و نسب اور ملک و قوم کے ظاہری اور مصنوعی امتیازات کے محدود دائروں سے نکال کر ایک وسیع تر ہیئت اجتماعیہ میں متشکل کیا۔ اقبال کے نزدیک یہ ہیئت اجتماعیہ قائم کرنا اسلام ہی کا نصب العین تھا۔ مگر بدقسمتی سے یہ وحدت قائم نہ رہ سکی اور مسلمان مختلف فرقوں ، گرہوں اور جماعتوں میں بٹتے چلے گئے ۔ اقبال مسلمانوں کو پھر اسی اخوت اسلامی کی طرف لوٹنے کی تلقین کرتے ہیں۔ اور ایک ملت میں گم ہو جانے کا سبق سکھاتے ہیں۔ وہ ایک عالمگیر ملت کے قیام کے خواہشمند ہیں جس کا خدا ، رسول کتاب، کعبہ ، دین اور ایمان ایک ہو،


    ملت اور اخوت کا پیغام





    یہی مقصود فطرت ہے یہی رمز مسلمانی
    اخوت کی جہانگیری ، محبت کی فراوانی

    بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا

    نہ تورانی رہے باقی ، نہ ایرانی نہ افغانی

    ہوس نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے نوع انساں کو

    اخوت کابیاں ہوجا ، محبت کی زباں ہوجا
    یہ ہندی ، وہ خراسانی ، یہ افغانی ، وہ تورانی
    تو اے شرمندہ ساحل ، اچھل کر بیکراں ہوجا

    مگر وحدت کا یہ احساس اور اخوت کا یہ جذبہ اگر نوع انسانی کے اندر پیدا ہوسکتا ہے تو صرف اسلا م کے ذریعہ ہی پیدا ہونا ممکن ہے۔ اقبال کی نظر میں اسلام محض انسان کی اخلاقی اصلاح ہی کا داعی نہیں ، بلکہ عالم بشریت کی اجتماعی زندگی میں ایک تدریجی مگر اساسی انقلاب بھی چاہتا ہے۔ جو انسان کے قومی اور نسلی نقطہ نگاہ کو یکسر بدل کر اس میں خالص انسانی ضمیر کی تخلیق کرے۔ اسی لئے وہ کہتے ہیں۔


    ربط ملت و ضبط ملت بیضا ہے مشرق کی نجات

    ایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبر

    ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے

    نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر
    نسل گر مسلم کی مذہب پر مقدم ہوگئی
    اڑ گیا دنیا سے تو مانند خاک رہ گزر

    اسی جذبہ کے تحت اقبال مسلمانوں کو اخوت کا پیغام دیتے ہیں اور انہیں مشورہ دیتے ہیں کہ رنگ و خون کو توڑ کر ایک ملت کی شکل میں متحد ہوجائیں ۔ کیونکہ یہی ایک صورت ہے جس کے ذریعے ایک زندہ قوم کی حیثیت سے اپنا وجود برقرار رکھ سکتے ہیں۔ ملک قوم ، نسل اور وطن کی مصنوعی حد بندیوں نے نوع انسانی کا شیرازہ منتشر کرکے رکھ دیاہے۔ اور اس کا علاج سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اسلامی معاشرہ کے تصور کو رائج کیا جائے اور کم از کم مسلمان خود کو اسی معاشرہ کا حصہ بنا لیں۔

    اتحاد اقوام اسلامی کا تصور

    اس دور میں قوموں کی محبت بھی ہوئی عام
    پوشیدہ نگاہوں سے رہی وحدت آدم

    تفریق ملل حکمت افرنگ کا مقصود

    اسلام کا مقصود فقط ملت آدم

    مکہ نے دیا خاک جینو ا کو یہ پیغام

    جمعیت اقوام ہے جمعیت آدم
    اسلام بنیادی طور پر ایک عالمگیر پیغام ہے اور تما م نوع انسانی کو اخو ت کی لڑی میں پرو کر ایک وسیع تر ملت اسلامیہ کے قیام کی دعوت دیتا ہے۔ تاکہ انسان کی ہوس کا علاج ہوسکے۔ لیکن اس کے لئے پہلا قدم یہ ہے کہ دنیا کے تمام مسلمان ممالک ایک لڑی میں پرئوے جائیں ۔ اقبال کی بھی یہی تمنا ہے ان کے نزدیک اسلام ایک ازلی ، ابدی ، آفاقی اور عالمگیر نوعیت کا پیغام ہے ، یہ ہر زمانہ ، ہر قوم اور ہر ملک کے لئے راہ ہدایت ہے۔ اس لئے اس کے پیروکاروں کو رنگ و نسل اور ملک وطن کے امتیازات مٹا کر یکجاہو جانا اور دنیائے انسانیت کے لئے ایک عالمگیر برادری کی مثال پیش کرنی چاہیے۔اس سلسلہ میں جمعیت اقوامکی تنظیم پر طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اصل مقصد انسانوں کے درمیان اخوت کا جذبہ پیدا ہو نا چاہیے نہ کہ قوموں کا ایک جگہ اکٹھا ہو جانا۔
    اتحاد عالم اسلام میں رکاوٹ

    اس تما م بحث سے پتہ چلتا ہے کہ قومیت کے متعلق نظریات کے حوالے سے اقبال ایک ارتقائی عمل سے گزرے اور آخر کا ر اس نتیجے پر پہنچے کہ نسلی ، جغرافیائی ، لسانی حوالے سے اقوام کی تقسیم مغرب کا چھوڑا ہو ا شوشہ ہے۔ جس کا مقصد صرف اور صر ف مسلمانوں کو تقسیم کرنا ہے۔ اس لئے انہو ں نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو اپنے نظریہ ملت سے ایک ہونے کا پیغام دیا ۔ تاکہ مغرب کی ان سازشوں کو ناکام بنا یا جا سکے۔ اور مسلمان اقوام عالم مےں اپنا کھویا ہوا مقا م ایک بار پھر حاصل کر سکیں۔ اقبال کے نزدیک اسلامی قومیت کی بنیاد اسلام پر ہے ملک و نسب نسل وطن پر نہیں۔ اس تصور کی انہوں نے عمر بھر شدو مد سے تبلیغ کی ۔ ہر مسلمان اسی تصور کو تسلیم کرتا ہے اور اس کی سچائی سے انکار نہیں کر سکتا۔ لیکن مسلم ریاستوں کے اتحاد اور دنیا کے تمام مسلمانوں کے ایک قوم بن جانے کا حوصلہ اس وقت تک نہیں آسکتا جب تک وطنیت اور قومیت کے مغربی نظریہ کی گرفت کمزور نہیں پڑجاتی۔ قریب قریب سارا عالم اسلام کافی عرصہ تک مغربی اقوام کا محکوم رہا ہے اور جدید اسلامی ریاستوں میں سے بہت سی ایسی ہیں جن کی تشکیل ہی مغربی نظریہ قومیت کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ اس طرح انہیں مغربی نظریات کے سحر سے آزاد ہونے میں کچھ وقت عرصہ لگے گا۔ لیکن امید کی جا سکتی ہے کہ کہ اقبال کے اس خواب کی تعبیر بھی ایک نہ ایک دن ضرور پوری ہوگی اور دنیا کے تمام مسلمان ملت واحدہ کی شکل اختیار کرکے ایک عالمگیر برادری کی شکل میں ڈھل جائیں گے۔
    نظریہ وطنیت و قومیت

    ہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستان ہمارا
    مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا

    وطن پرستی کا دور

    جب ہم اقبال کی ابتدائی شاعری کا جائزہ لیتے ہیں تو قدرت اور عورت کے حسن کی پرستش کے بعد جو جذبہ سب سے پہلے نظر آتا ہے۔ وہ وطن کی پرستش ہے۔

    وطن سے ان کی گہری محبت کا جذبہ اس قدر شدید تھا کہ ان کے اولین اردو مجموعہ بانگ درا کا آغاز ہی ایک ایسی نظم سے ہوتا ہے۔ جو وطن پرستی کے بلند پایہ جذبات سے بھرپور ہے اس کا شمار ان نظموں میں ہوتا ہے جو حصول تعلیم کی غرض سے ان کے یورپ جانے سے قبل لکھی گئیں۔ مثلاً اپنی نظم تصویر درد میں وہ ہندوستان کی قسمت پر آنسو بہاتے ہوئے کہتے ہیں،


    رلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستان مجھ کو

    کہ عبرت خیز ہے ترا فسانہ سب فسانوں میں
    وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے
    تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
    چھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نے
    عنا دل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میں
    نہ سمجھو گے تو مٹ جائو گے اے ہندوستان والو
    تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

    ترانہ ہندی ان کی وہ مشہور اور مقبول عوام نظم ہے جو عرصہ تک ہندوستان کے بچے بچے کی زبان پر رہی ہے۔ اس میں انتہائی دلنشین طریقہ سے اپنے وطن کے ساتھ گہرے لگائو اور محبت کا اظہار ہوتا ہے۔


    سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا

    ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
    غربت میں ہوں اگر ہم رہتا ہے دل وطن میں
    سمجھو وہیں ہیں ہم بھی، دل ہو جہاں ہمارا
    مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
    ہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستان ہمارا
    یونان و مصر و روما ، سب مٹ گئے جہاں سے
    اب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا


    اس زمانہ کی ایک اور نظم ہندوستانی بچوں کا گیت ایک ایسی نظم ہے جس کے ایک ایک لفظ سے وطن پرستانہ جذبات کا اظہار ہوتا ہے۔ وطن کے ساتھ اتنے گہرے لگائو کا اظہار کرنے والی اردو میں بہت کم نظم لکھے گئے ہیں اس میں اقبال کی وطن کے ساتھ محبت اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔


    بندے کلیم جس کے ، پربت جہاں کا سینا

    نو ح نبی کا ٹھہرا آکے جہاں سفینا
    رفعت ہے زمین کی بام فلک کا زینا
    جنت کی زندگی ہے جس کی فضا میں جینا
    میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے

    اس نظم کے آخری بند میں اقبال نے اپنے وطن کو جس والہانہ انداز میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ اس کی اردو شاعری میں شائد ہی کوئی اور مثال مل سکے ۔اسی طرح اپنی نظم نیا شوالہ میں انہوں نے یہ کہہ کر اپنی وطن پرستی کی اتنہا کر دی تھی کہ خاک وطن کا جھکو یہ ذرہ دیوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ وطن پرستی کی خاطر اس سے بڑھ کر اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ کہ شاعر اپنے وطن کے ذرے ذر ے کا پجاری ہے۔
    اقبال کی ابتدائی نظموں میں وطن سے ان کی گہری محبت کا اظہار ہوتا ہے۔ ہر شخص کی طرح انہیں بھی اپنے وطن سے بڑی محبت تھی۔ بلکہ یہ محبت وطن پرستی کی حدوں تک پہنچی تھی۔ چنانچہ ان کی اس دور کی نظموں میں بقول مولانا صلاح الدین احمد
    ،
    بعد کی وطن دوستی کی شاعری

    وطنیت کا وہ نظریہ جس کی تبلیغ سیاستِ مغرب کی طرف سے ہوئی ہے آپ اس کی شدید مخالف ہیں ۔ اور اقوام و عمل کے حق میں اس کو سم قاتل خیال کرتے ہیں لیکن وطنیت کا یہ مفہوم کہ ہندی ، عراقی ، خراسانی ، افغانی، روسی ، مصری وغیرہ ہونے کے اعتبار سے ہر فرد کو اپنے وطن ولادت سے تعلق اور نسبت ہے اور اسی لئے اس کو اپنے وطن کی خدمت کرنی چاہیے اور قربانیوں سے دریغ نہ کرنا چاہیے۔ اس کے آپ قائل اور معترف ہیں۔

    گویا ان کے وطن دوستی کے جذبات میں نہ کبھی تغیر آیا اور نہ ان میں کبھی کمی ہوئی۔ ان کا ثبوت یہ ہے کہ ان کی پختگی کے دور کی تصانیف جاویدنامہ ۔پس چہ باید کرد اے اقوام مشرق اور مثنوی مسافر میں بھی وطن پرستی کے لطیف جذبات کا اظہار جا بجا ہوا ہے جاوید نامہ کا وہ حصہ تو خاص طور پر قابل ذکر ہے جہاں انہوں نے قلزم خونیں کے تحت روح ہندوستان اور اس کے نامہ و فریاد کی تصویر کشی کا حق ادا کر دیا ہے۔ انہوں نے میر جعفر ، اور میر صادق جیسے وطن کے غداروں کو ننگ آدم ، ننگ دیں ، ننگ وطن ، قرار دیکر ان کی روحوں کو ایک قدر ناپاک ثابت کیا ہے کہ انہیں دوزخ بھی قبول کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ اقبا ل نے انہیں ایک قلزم خونیں میں مبتلائے عذاب دکھایا ہے۔ کیونکہ اقبال کے نزدیک وطن سے غداری ایک ایسا خوفناک جرم ہے جسے کسی حالت میں بھی معاف نہیں کیا جا سکتا۔
    بعض نقادوں کا خیال ہے کہ جوں جوں اقبال فکری ارتقاءکے مراحل طے کرتے گئے ، ان کی وطن پرستانہ جذبات دھیمے اور ملت پرستانہ جذبات گہرے ہوتے گئے۔ یہاں تک کہ وطن کی محبت کے نظریہ سے قطعاً کنارہ کش ہوگئے۔ مگر یہ اعتراض درست نہیں ہے یہ تو ٹھیک ہے کہ بعد کے ادوار میں ان کی شاعری میں وطن پرستی کا وہ والہانہ جذبہ نہیں ملتا جو ابتدائی دور کی خصوصیت ہے۔ مگر وطن دوستی کا اظہار وہ اپنی شاعری کے ہر دور میں جابجا کرتے ہیں ۔ دراصل وطن کی جغرافیائی حیثیت سے انہوں نے کبھی انکار نہیں کیا اور نہ اس کے ساتھ ان کی محبت میں کبھی کمی آئی ۔ ان کی مخالفت صرف وطنیت کے سیاسی نظریہ سے تھی۔ طاہر فاروقی سیرت اقبال میں لکھتے ہیں
    ،
    وطنیت کے سیاسی تصور کی مخالفت

    میں نظریہ وطنیت کی تردید اس زمانہ سے کر رہا ہوں جبکہ دنیائے اسلام اور ہندوستان میں اس نظریہ کا کچھ ایسا چرچا بھی نہ تھا مجھ کو یورپین مصنفوں کی تحریروں سے ابتداءہی سے یہ بات اچھی طرح معلوم ہوگئی تھی کہ یورپ کی دلی اغراض اس امر کی متقاضی ہیں کہ اسلام کی وحدت دینی کو پارہ پارہ کرنے کے لئے اس سے بہتر کوئی حربہ نہیں کہ اسلامی ممالک میں نیرنگی نظریہ وطنیت کی اشاعت کی جائے۔ چنانچہ ان لوگوں کی یہ تدبیر جنگ عظیم میں کامیاب ہوگئی۔

    آگے چل کر وہ لکھتے ہیں،


    اگر بعض علما ءمسلمان اس فریب میں مبتلا ہیں کہ دین اور وطن بحیثیت ایک سےاسی تصور کے یکجا رہ سکتے ہیں تو میں مسلمانوں کو ہر وقت انتباہ کرتا ہوں کہ اس راہ سے آخری مرحلہ اول تو لادینی ہوگی اور اگر لادینی نہیں تو اسلام کو محض ایک اخلاقی نظریہ سمجھ کر اس کے اجتماعی نظام سے لاپرواہی۔ ان اقتباسات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اقبال وطنیت کے مغربی سےاسی تصور کے مخالف ہیں اور یہ مخالفت اس وجہ سے ہے کہ نظریہ براہ راست اسلامی عقائد و تصورات سے متصادم ہوتا ہے۔
    اقبال نے مارچ 1938ءمیں ایک مضمون لکھا جس میں وطنیت کے مسئلہ پر تفصیل کے ساتھ بحث کی تھی۔ اور بتایا تھا کہ وہ کس قسم کی وطنیت کے مخالف ہیں اس مضمون میں وطنیت کے سیاسی تصور سے بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں
    ،


  4. #4
    Join Date
    Dec 2010
    Location
    خلا سے خلا تک
    Posts
    84
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    Default Re: biography of Allama Muhammad Iqbal محمد اقبال

    وطن کا بت


    فکر انسان بت پرستی ، بت گری
    ہر زماں در جستجو پیکری

    باز طرح آزری انداخت است
    تازہ تر بیروزگاری ساخت است


    اقبال وطن کے اس طرح بت بنا کر پوجنے کے سخت خلاف ہیں اور اسے اسلام کی عالمگیر روح کے منافی خیال کرتے ہیں اسی لئے وہ اسے نئے بت کو توڑنا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں چنانچہ بانگ درا کی ایک نظم وطنیت جس کا ذیلی عنوان ہے وطن بحیثیت ایک سیاسی تصور کے ہے انہوں نے بڑی خوبصورتی سے اپنے اس خیال کا اظہار کیا ہے۔

    ان تازہ خدائوں میں بڑا سب سے وطن ہے
    جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کاکفن ہے

    یہ بت کہ تراشیدہ تہذیب نوی ہے
    غارت گر کاشانہ دین نبوی ہے

    بازو تر اتوحید کی قوت سے قوی ہے
    اسلام ترا دیس ہے تو مصطفوی ہے

    خالی ہے صداقت سے سےاست تو اسی سے
    کمزور کا گھر ہوتا ہے غارت تو اسی سے

    اقوام میں مخلوقِ خدا بٹتی ہے اس سے
    قومیت اسلام کی جڑ کٹتی ہے اس سے انسانی فکریت اور بت پرستی کی ایسی خوگر رہی ہے کہ جب ایک بت ٹوٹ جاتا ہے تو دوسرا نیا بت تراش لیتی ہے۔ نت نئے بت تراشنے کا سلسلہ قدیم زمانہ کی طرح آج بھی جاری ہے۔ ان بتوں کی شکلیں تھوڑی بہت بدل گئی ہوں تو بد ل گئی ہوں ، ورنہ ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ آج انسانی گروہوں نے وطنیت کا نیا بت تراشا ہے۔ جس کے آگے وہ سر بسجود ہیں ۔ اس بت پر بلا تکلف و تامل انسانیت کو بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ چنانچہ اقبال کا دعویٰ ہے کہ جس طرح دوسرے بت توڑے گئے ضرور ہے کہ اس ب کو بھی توڑا جا ئے تاکہ انسانیت کی گلو خلاصی ہو۔


    وطنیت اور ملوکیت کا رشتہ

    اقبال ملوکیت یا امپیریلزم کو جارحانہ وطنیت ہی کا ایک شاخسانہ تصور کرتا ہے۔ اور اس کو اسلام کی اخلاقی تعلےم کی رد خیال کرتاہے۔ قومیت کے علمبرداروں کا نظریہ میرا وطن غلط ہو تو بھی صحیح ہےہے ۔ یہ جھوٹی عصبیت حق و باطل میں تمیز نہیں ہونے دیتی ۔ جب آدمی سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے کے قابل نہیں رہتا تو وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ اور اپنے عمل کو حق بجانب ٹھہر ا سکتا ہے۔ اقبال کا خیال ہے کہ جدید دور میں سامراجی ملوکیت وطنیت کے سیاسی تصور کا ہی کرشمہ ہے۔ اس لئے وہ اس تصور کے اس پہلو کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ، اس سلسلہ میں ڈاکٹر یوسف حسین اپنی کتابروح اقبال میں لکھتے ہیں،
    مجموعی جائزہ


    مندرجہ بالا بحث سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اقبال اپنے وطن کی محبت میں کسی بھی شخص سے پیچھے نہیں ہیں ، اور یہ محبت تمام عمر ان کے لئے متاع عزیز رہی ہے۔ مگر وہ اس وطنیت سے بیزار ہیں جو ایک مستقل نظریہ حیات ہے۔ اور جس کی تبلیغ سب سے پہلے مغربی دنیا میں مخصوص اغراض و مقاصد کے تحت ایک منظم شکل میں ہوئی۔ یہ وطنیت عالمگیر اسلامی اخوت کے راستہ کا پتھر بنتی ہے۔ انسان اور انسان کے درمیان دیوار حائل کرتی ہے۔ اقبال نے اس مغربی تصور کے بجائے اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہونے پر زور دیا ہے۔ کیونکہ ان کے خیال میں رنگ و نسل وغیر ہ کے امتیازات اور قوم و وطن کے تعصبات کو اگر کوئی نظام ختم کر نے میں کامیاب ہوا ہے تو وہ اسلام ہے۔ اور اسی لئے انہوں نے ترانہ ہندی کے بعد ملی ترانہ لکھا۔

    • اقبال کا تصور تعلیم


    اردو میں تعلیم کا لفظ، دو خاص معنوں میں مستعمل ہے ایک اصطلاحی دوسر ے غیر اصطلاحی ، غیر اصطلاحی مفہوم میں تعلیم کا لفظ واحد اور جمع دونوں صورتوں میں استعمال ہو سکتا ہے اور آدرش ، پیغام ، درسِ حیات، ارشادات، ہدایات اور نصائح کے معنی دیتا ہے۔ جیسے آنحضرت کی تعلیم یا تعلیمات ، حضرت عیسیٰ کی تعلیم یا تعلیمات اور شری کرشن کی تعلیمات، کے فقروں میں ، لیکن اصطلاحی معنوں میں تعلیم یا ایجوکیشن سے وہ شعبہ مراد لیا جاتا ہے جس میں خاص عمر کے بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما، تخیلی و تخلیقی قوتوں کی تربیت و تہذیب ، سماجی عوامل و محرکات ، نظم و نسق مدرسہ، اساتذہ ، طریقہ تدریس ، نصاب ، معیار تعلیم ، تاریخ تعلیم ، اساتذہ کی تربیت اور اس طرح کے دوسرے موضوعات زیر بحث آتے ہیں۔
    علامہ اقبال کے تعلیمی تصورات یا فلسفہ تعلیم کے متعلق کتب و مقالات کی شکل میں اب تک جو کچھ لکھا گیا ہے اس میں تعلیم کے اصطلاحی مفہوم سے کہیں زیادہ تعلیم کے عام مفہوم کوسامنے رکھاگیا ہے۔ یعنی جو کچھ لکھا گیا ہے اس میں درس و تدریس ، تعلیم یا طلبہ و مدارس کے توسط سے پیدا ہونے والے مسائل سے بحث کرنے کے بجائے عام طور پر وہی باتیں کہی گئی ہیں جواقبال کے فکرو فن یا فلسفہ خودی و بےخودی یا تصور فرد و جماعت کے حوالے سے ، ان کو ایک بزرگ مفکر یا عظیم شاعر ثابت کرنے کے لئے کہی جاتی ہیں ، حالانکہ ان باتوں کا تعلق ، تعلیم کے اصطلاحی مفہوم سے نہیں بلکہ تعلیم کے اس عام مفہوم سے ہے جس کے دائرے میں ہر بزرگ اور صاحبِ نظر فلسفی یا شاعر کا پیغام درس حیات آ جاتا ہے۔
    مانا کہ اقبال کے تصور ِ تعلیم کے ضمن میں ایسا کرنا بعض وجوہ سے ناگزیر ہے اور اقبال کے مقاصد ِتعلیم کے تعین کے سلسلے میں ان کے فلسفہ خودی و بےخودی یا فلسفہ حیات کو بحرحال سامنے رکھنا پرتا ہے۔ لیکن اقبال کے عام فلسفہ حیات کو اصطلاحی معنوں میں تعلیم یا فلسفہ تعلیم سے تعبیر کرنا یا محض ان دلائل کی بنیاد پر انہیں ایک عظیم مفکر تعلیم یا ماہر تعلیم کہنا مناسب نہیں معلوم ہوتا ۔ اس لئے کہ بقول قاضی احمد میاں اختر جو نا گڑھی،
    اقبال نہ تو فن ِ تعلیم کے ماہر تھے نہ انہوں نے اس فن کی تحصیل کی تھی، نہ اس موضوع پر انہوں نے کوئی کتاب لکھی بجز اس کے کہ کچھ مدت تک بحیثیت پروفیسر کالج میں درس دیتے رہے کوئی مستقل تعلیمی فلسفہ انہوں نے نہیں پیش کیا۔
    با ایں ہمہ ، اقبال کے تعلیمی افکا ر سے کلیتاً صرف نظر نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نے تعلیم کی فنی اور عملی صورتوں پر غور کیا ہے مسائل تعلیم کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا ہے۔ اپنے فلسفہ حیات میں مناسب جگہ دی ہے۔ تعلیم کے عام معنی و اثرات پر روشنی ڈالی ہے اس کے ڈھانچے اغراض اور معیار کو موضوع گفتگو بنایا ہے اور اپنے عہد کے نظام ِ تعلیم پر تنقیدی نگاہ ڈالی ہے۔ مدرسہ ، طلبہ ، اساتذہ اور نصاب ، سب پر اظہار خیال کیا ہے صرف مشرق نہیں ، مغرب کے فلسفہ تعلیم اور نظام ِ کار کو بھی سامنے رکھا ہے۔ دونوں کا ایک دوسرے سے مقابلہ کیا ہے ان کے درمیان حد ِ فاضل کھینچی ہے۔ خرابیوں اور خوبیوں کا جائزہ لیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ زندگی کو کامیاب طریقے سے برتنے اور اس کی مزاحمتوں پر قابو پالینے کے لئے کس قسم کی تعلیم اور نظام تعلیم کی ضرورت ہے۔
    افراد اور اقوام کی زندگی میں تعلیم و تربیت کو وہ بنیادی اہمیت حاصل ہے کہ افراد کی ساری زندگی کی عمارت اسی بنیاد پر تعمیر ہوتی ہے اور اقوام اپنے تعلیمی فلسفہ کے ذریعہ ہی اپنے نصب العین ، مقاصد ِ حیات، تہذیب و تمدن اور اخلاق و معاشرت کا اظہار کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال نے قومی زندگی کے اسی اہم پہلو پر گہرا غور و خوص کیا ہے۔ اور اپنے افکار کے ذریعہ ایسی راہ متعین کرنے کی کوشش کی ہے جو ایک زندہ اور جاندار قوم کی تخلیق کا باعث بن سکے۔
    ابتداءمیں تو اقبال نے قوم کے تعلیمی پہلو پر کوئی خاص توجہ نہیں دی ۔ خاص طور پر اپنی شاعری کے پہلے اور دوسرے دور میں اس موضوع پر انہوں نے کچھ نہیں لکھا البتہ آخر میں انہوں نے اس قومی پہلو کو بھر پور اہمیت دی۔ اور ضرب کلیم میں تو تعلیم و تربیت کا ایک مستقل عنوان قائم کیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی جابجا ایسے اشعار ملتے ہیں ۔جن میں صحیح تعلیم اور اس کے مقاصد کی نشاندہی کی گئی ہے۔بقول ڈاکٹر سید عبداللہ،
    اقبال نے تعلیم کے عملی پہلوئوں پر کچھ زیاد ہ نہیں لکھا مگر ان کے افکار سے ایک تصور تعلیم ضرور پیدا ہوتا ہے۔ جس کو اگر مرتب کر لیاجائے تو اس پر ایک مدرسہ تعلیم کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

    • اقبال کا تصور عورت


    عورت کے بارے میں اقبال کا نظریہ بالکل اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے وہ عورت کے ليے وہی طرز زندگی پسند کرتے ہیں جو اسلام کے ابتدائی دور میں تھا کہ مروجہ برقعے کے بغیر بھی وہ شرعی پردے کے اہتمام اور شرم و حیا اور عفت و عصمت کے پورے احساس کے ساتھ زندگی کی تما م سرگرمیوں میں پوری طرح حصہ لیتی ہیں۔ اس ليے طرابلس کی جنگ میں ایک لڑکی فاطمہ بنت عبداللہ غازیوں کو پانی پلاتے ہوئے شہید ہوگئی تو اس واقعہ سے وہ اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے اسی لڑکی کے نام کوہی عنوان بنا کر اپنی مشہو ر نظم لکھی ۔
    فاطمہ! تو آبرو ئے ملت مرحوم ہے
    ذرہ ذرہ تیری مشتِ خاک کا معصوم ہے
    یہ جہاد اللہ کے رستے میں بے تیغ و سپر!
    ہے جسارت آفریں شوق شہادت کس قدر!
    یہ کلی بھی اس گلستانِ خزاں منظر میں تھی
    ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی

    اقبال کی نظر میں عورت کا ایک مخصوص دائرہ کار ہے۔ اور اسی کے باہر نکل کر اگر وہ ٹائپسٹ، کلرک اور اسی قسم کے کاموں میں مصروف ہو گی تو اپنے فرائض کو ادا نہیں کرسکے گی۔ اور اسی طرح انسانی معاشرہ درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ البتہ اپنے دائرہ کار میں اسے شرعی پردہ کے اہتمام کے ساتھ بھی اسی طریقہ سے زندگی گزارنی چاہیے کہ معاشرہ پر اس کے نیک اثرات مرتب ہوں اور اس کے پرتو سے حریم ِ کائنات اس طرح روشن ہو جس طرح ذاتِ باری تعالی کی تجلی حجاب کے باوجود کائنات پر پڑ رہی ہے۔

    • اقبال اور مغربی تہذیب


    مغربی تہذیب سے مراد وہ تہذیب ہے جو گذشتہ چا ر سو سالوں کے دوران یورپ میں اُبھری اس کا آغاز سولہویں صدی عیسوی میں اُس وقت سے ہوتا ہے جب مشرقی یورپ پر ترکوں نے قبضہ کیا ۔ یونانی اور لاطینی علوم کے ماہر وہاں سے نکل بھاگے اور مغربی یورپ میں پھیل گئے یورپ جو اس سے قبل جہالت کی تاریکی میں بھٹک رہا تھا ان علماءکے اثر سے اور ہسپانےہ پر عیسائیوں کے قبضہ کے بعد مسلمانوں کے علوم کے باعث ایک نئی قوت سے جاگ اُٹھا ۔ یہی زمانہ ہے جب یورپ میں سائنسی ترقی کا آغاز ہوا۔ نئی نئی ایجادات ہوئیں اُن کے باعث نہ صرف یورپ کی پسماندگی اور جہالت کا علاج ہوگیا۔ بلکہ یورپی اقوام نئی منڈیاں تلاش کرنے کے لئے نکل کھڑی ہوئیں ان کی حریصانہ نظریں ایشیاءاور افریقہ کے ممالک پر تھیں۔ انگلستان ، فرانس ، پرُ تگال اور ہالینڈ سے پیش قدمی کی اور نت نئے ممالک کو پہلے معاشی اور پھر سےاسی گرفت میں لیتا شروع کر دیااس طرح تھوڑے عرصہ میں ان اقوام نے ایشیاءاور افریقہ کے بیشتر ممالک پر قبضہ کرکے وہاں اپنی تہذیب کو رواج دیا اس رواج کی ابتداءیونانی علوم کی لائی ہوئی آزاد خیالی اور عقلی تفکر سے ہوئی۔ جس نے سائنسی ایجادات کی گود میں آنکھ کھولی تھی۔ سائنسی ایجادات اور مشینوں کی ترقی نے اس تہذیب کو اتنی طاقت بخش دی تھی کہ محکوم ممالک کا اس نے حتیٰ المقدور گلا گھونٹنے کی کوشش کی۔ وہاں کے عوام کی نظروں کو اپنی چکاچوند سے خیرہ کر دیا اور وہ صدیوں تک اس کے حلقہ اثر سے باہر نہ آسکے ۔ مسلمان ممالک خاص طور پر اس کا ہدف بنے ۔ ترکی ، ایران، مصر ، حجاز ، فلسطین ، مراکش ، تیونس، لیبیا، سوڈان ، عراق ، شام غرض تمام ممالک کو یورپ نے اپنا غلام بنا لیا اور ہندوستان پر قبضہ کر کے یہاں کے مسلمانوں کو ان کی شاندار تہذیب سے بدظن کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔
    نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب مغرب کی
    یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
    اقبال کو شک اس کی شرافت میں نہیں ہے
    ہر ملک میں مظلوم کا یورپ ہے خریدار
    اقبال نے اپنے کلام میں جابجا مغربی تہذیب و تمدن کی خامیوں پر نکتہ چینی کی ہے اور مسلم معاشرے کو ان کے مضر اثرات سے بچنے کی تلقین کی ہے ۔ بعض نقادوں کے خیال میں اقبال نے مغربی تہذیب پر اعتراضات کرکے انصاف سے کام نہیں لیا۔ ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم اس بارے میں لکھتے ہیں۔
    اقبال کے ہاں مغربی تہذیب کے متعلق زیادہ تر مخالفانہ تنقید ملتی ہے۔ اور یہ مخالفت اس کے رگ و پے میں اس قدر رچی ہوئی ہے کہ اکثر نظموں میں جا و بے جا ضرور اس پر ایک ضرب رسید کر دیتا ہے۔
    یہ کہنا کہ اقبال کو مغربی تہذیب میں خوبی کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا کلام اقبال سے سطحی واقفیت کا نتیجہ ہے۔ اقبال نے تہذیب ِ مغرب کے صرف انہی پہلو ئوں پر تنقید کی ہے جنہیں وہ مسلم معاشرے کے لئے مضر سمجھتے تھے۔ ورنہ جہاں تک اچھے پہلوئوں کا تعلق ہے اقبال اس سے کبھی منکر نہیں ہوئے۔
    اپنی ایک لیکچر میں انہوں نے اسلامی تہذیب و تمدن کی اہمیت جتانے کے بعد کھل کر کہا ہے۔ میری ان باتوں سے یہ خیال نہ کیا جائے کہ میں مغربی تہذیب کا مخالف ہوں ۔ اسلامی تاریخ کے ہر مبصر کو لامحالہ اس امر کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ ہمارے عقلی و ادراکی گہوارے کو جھلانے کی خدمت مغرب نے ہی انجام دی ہے۔
    اسی طرح ایک اور جگہ وہ صاف صاف کہتے ہیں،
    مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حذر کر
    فطرت کا ہے ارشاد کہ ہر شب کو سحر کر


    • اقبال اور عشق رسول


    مثلِ بو قید ہے غنچے میں ، پریشاں ہو جا
    رخت بردوش ہے ہوائے چمنستاں ہو جا
    ہے تنک مایہ ، توذری سے بیاباں ہو جا
    نغمہ موج سے ہنگامہ طوفاں ہو جا
    قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
    دہر میں اسم ِ محمد سے اجالا کر دے

    عشق وہ والہانہ جذبہ ہے جو حضرت انسان کو دوسرے اقوام سے ممتاز کرتی ہے۔ یہ جذبہ بناوٹ، عیاری، امید ( معشوق سے کچھ حاصل کرنے کی) ۔ لالچ سے ماورا ہوتی ہے۔ یہ جذبہ انسان کو ایک جست میں اس بلندی اور آفاقیت تک لے جاتی ہے۔جس کا ہم خیال بھی نہیں کر سکتے ۔ اس قوت سے یقین و ایمان میں پختگی آتی ہے۔ اور اسی جذبہ کے تحت ایمان بل غیب پر یقین آجاتا ہے۔حضرت سید محمد ذوقی شاہ اپنی کتاب سر ِ دلبراں میں لکھتے ہیں،
    عشق ایک مقناطیسی کشش ہے جو کسی کو کسی کی جانب سے ایذا پانا، وصال سے سیر ہونا ، اس کی ہستی میں اپنی ہستی کو گم کر دینا یہ سب عشق و محبت کے کرشمے ہیں۔
    عاشقی چیست؟ بگو بندہ جاناں بودن
    دل بدست دگرے دا دن و حیراں بودن
    اور جب یہ تعلق یا کشش سیدنا محمد مصطفی سے ہو تو پھر کیا کہنا ۔ ان کی ہستی تو ایک بحر ذخار کے مانند ہے جس کی موجوجیں آسمان کو چھوتی ہیں۔ جس کی تعلیمات محبت ، اخوت، مساوات اور رواداری کا درس دیتی ہیں ۔ جو لوگوں کو حیات نو عطا کرتی ہیں۔ اُس کے اخلاق کے بارے میں خود اللہ فرماتے ہیں کہ،
    اے حبیب بے شک تو اخلاق کے بلند درجے پر ہے۔
    جن کو نبوت سے پہلے امین اور صادق کے خطاب دئیے گئے رشک کی بات ہے کہ اقبال کو اس عظیم بندے سے عشق تھا اور اس آفتاب کے نور سے اقبال کی شاعری منور ہے۔
    می ندانی عشق و مستی از کجا ست؟
    ایں شعاع افتاب مصطفی ست
    مولانا عبدالسلام ندوی اقبال کامل میں لکھتے ہیں،
    ڈاکٹر صاحب کی شاعری محبت ِ وطن اور محبت قوم سے شروع ہوتی ہے اور محبت الہٰی اور محبت رسول پر اس کا خاتمہ ہوا۔


    مجموعی جائزہ

    غرض اقبال کے سارے نظریات آپ کی ذات ِ گرامی میں بدرجہ اتم موجود تھے۔ وہ ایک خود دار ذات تھے۔ شاہین صفت تھے ، شفیق تھے۔ انسان کامل تھے۔ مردمومن تھے۔ صاف گو تھے۔ جمہوریت پسند تھے۔ مسلم کے قدر دان تھے اگرچہ خود اُمی تھے اسی لئے اقبال جواب شکوہ میں لکھتے ہیں کہ
    عقل ہے تیری سپر ، عشق ہے شمشیر تری
    مرے درویش! خلافت ہے جہان گیر تری
    ماسوا اللہ کے لئے آگ ہے تکبیر تری
    تو مسلماں ہوتو تقدیر ہے تدبیر تری
    کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
    یہ جہاں چیز ہے کیا لو ح قلم تیرے ہیں
    Last edited by Aisha Baig; 16-12-2010 at 04:16 AM.

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •