Results 1 to 6 of 6

Thread: Allama Mohammad Iqbal (با نگ درا)

  1. #1
    Join Date
    Aug 2010
    Location
    Horror Ful PLace
    Age
    23
    Posts
    121
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    grin Allama Mohammad Iqbal (با نگ درا)

    ہمالہ
    اے ہمالہ! اے فصيل کشور ہندوستاں
    چومتا ہے تيري پيشاني کو جھک کر آسماں
    تجھميں کچھ پيدا نہيں ديرينہ روزي کے نشاں
    توجواں ہے گردش شام و سحر کے درمياں
    ايکجلوہ تھا کليم طور سينا کے ليے
    توتجلي ہے سراپا چشم بينا کے ليے
    امتحان ديدئہ ظاہر ميں کوہستاں ہے تو
    پاسباں اپنا ہے تو ، ديوار ہندستاں ہے تو
    مطلع اول فلک جس کا ہو وہ ديواں ہے تو
    سوئے خلوت گاہ دل دامن کش انساں ہے تو
    برف نے باندھي ہے دستار فضيلت تيرے سر
    خندہ زن ہے جو کلاہ مہر عالم تاب پر
    تيريعمر رفتہ کي اک آن ہے عہد کہن
    واديوںميں ہيں تري کالي گھٹائيں خيمہ زن
    چوٹياںتيري ثريا سے ہيں سرگرم سخن
    توزميں پر اور پہنائے فلک تيرا وطن
    چشمہدامن ترا ئنہ سےال ہے
    دامنموج ہوا جس کے ليے رومال ہے
    ابر کے ہاتھوں ميں رہوار ہوا کے واسطے
    تازيانہدے ديا برق سر کہسار نے
    اے ہمالہ کوئي بازي گاہ ہے تو بھي ، جسے
    دستقدرت نے بنايا ہے عناصر کے ليے
    ہائے کيا فرط طرب ميں جھومتا جاتا ہے ابر
    فيلبے زنجير کي صورت اڑا جاتا ہے ابر
    جنبشموج نسيم صبح گہوارہ بني
    جھومتي ہے نشہ ہستي ميں ہر گل کي کلي
    يوںزبان برگ سے گويا ہے اس کي خامشي
    دستگلچيں کي جھٹک ميں نے نہيں ديکھي کبھي
    کہہرہي ہے ميري خاموشي ہي افسانہ مرا
    کنجخلوت خانہ قدرت ہے کاشانہ مرا
    آتي ہے ندي فراز کوہ سے گاتي ہوئي
    کوثرو تسنيم کي موجوں کي شرماتي ہوئي
    آئنہسا شاہد قدرت کو دکھلاتي ہوئي
    سنگرہ سے گاہ بچتي ، گاہ ٹکراتي ہوئي
    چھيڑتيجا اس عراق دل نشيں کے ساز کو
    اےمسافر دل سمجھتا ہے تري آواز کو
    ليليشب کھولتي ہے آ کے جب زلف رسا
    دامندل کھينچتي ہے آبشاروں کي صدا
    وہخموشي شام کي جس پر تکلم ہو فدا
    وہدرختوں پر تفکر کا سماں چھايا ہوا
    کانپتاپھرتا ہے کيا رنگ شفق کہسار پر
    خوشنمالگتا ہے يہ غازہ ترے رخسار پر
    اے ہمالہ! داستاں اس وقت کي کوئي سنا
    مسکنآبائے انساں جب بنا دامن ترا
    کچھبتا اس سيدھي سادي زندگي کا ماجرا
    داغجس پر غازئہ رنگ تکلف کا نہ تھا
    ہاںدکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو
    دوڑپيچھے کي طرف اے
    Last edited by asfand; 01-01-2011 at 11:33 AM.

  2. #2
    Join Date
    Aug 2010
    Location
    Horror Ful PLace
    Age
    23
    Posts
    121
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    grin Re: Allama Mohammad Iqbal (با نگ درا)

    گل رنگيں


    تو شناسائے خراش عقدئہ مشکل نہيں
    اے گل رنگيں ترے پہلو ميں شايد دل نہيں
    زيب محفل ہے ، شريک شورش محفل نہيں
    يہ فراغت بزم ہستي ميں مجھے حاصل نہيں
    اس چمن ميں ميں سراپا سوز و ساز آرزو
    اور تيري زندگاني بے گداز آرزو
    توڑ لينا شاخ سے تجھ کو مرا آئيں نہيں
    يہ نظر غير از نگاہ چشم صورت بيں نہيں
    آہ! يہ دست جفاجو اے گل رنگيں نہيں
    کس طرح تجھ کو يہ سمجھائوں کہ ميں گلچيں نہيں
    کام مجھ کو ديدئہ حکمت کے الجھيڑوں سے کيا
    ديدئہ بلبل سے ميں کرتا ہوں نظارہ ترا
    سو زبانوں پر بھي خاموشي تجھے منظور ہے
    راز وہ کيا ہے ترے سينے ميں جو مستور ہے
    ميري صورت تو بھي اک برگ رياض طور ہے
    ميں چمن سے دور ہوں تو بھي چمن سے دور ہے
    مطمئن ہے تو ، پريشاں مثل بو رہتا ہوں ميں
    زخمي شمشير ذوق جستجو رہتا ہوں ميں
    يہ پريشاني مري سامان جمعيت نہ ہو
    يہ جگر سوزي چراغ خانہ حکمت نہ ہو
    ناتواني ہي مري سرمايہ قوت نہ ہو
    رشک جام جم مرا آ ينہ حيرت نہ ہو
    يہ تلاش متصل شمع جہاں افروز ہے
    توسن ادراک انساں کو خرام آموز ہے

    Last edited by asfand; 01-01-2011 at 11:33 AM.

  3. #3
    Join Date
    Aug 2010
    Location
    Horror Ful PLace
    Age
    23
    Posts
    121
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    Default Re: Allama Mohammad Iqbal (با نگ درا)

    عہد طفلي
    تھے ديار نو زمين و آسماں ميرے ليے
    وسعت آغوش مادر اک جہاں ميرے ليے
    تھي ہر اک جنبش نشان لطف جاں ميرے ليے
    حرف بے مطلب تھي خود ميري زباں ميرے ليے
    درد ، طفلي ميں اگر کوئي رلاتا تھا مجھے
    شورش زنجير در ميں لطف آتا تھا مجھے
    تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سوئے قمر
    وہ پھٹے بادل ميں بے آواز پا اس کا سفر
    پوچھنا رہ رہ کے اس کے کوہ و صحرا کي خبر
    اور وہ حيرت دروغ مصلحت آميز پر
    آنکھ وقف ديد تھي ، لب مائل گفتار تھا
    دل نہ تھا ميرا ، سراپا ذوق استفسار تھا
    Last edited by asfand; 01-01-2011 at 11:35 AM.

  4. #4
    Join Date
    Aug 2010
    Location
    Horror Ful PLace
    Age
    23
    Posts
    121
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    candel Re: Allama Mohammad Iqbal (با نگ درا)

    مرزا غالب
    فکر انساں پر تري ہستي سے يہ روشن ہوا
    ہے پر مرغ تخيل کي رسائي تا کجا
    تھا سراپا روح تو ، بزم سخن پيکر ترا
    زيب محفل بھي رہا محفل سے پنہاں بھي رہا
    ديد تيري آنکھ کو اس حسن کي منظور ہے
    بن کے سوز زندگي ہر شے ميں جو مستور ہے
    محفل ہستي تري بربط سے ہے سرمايہ دار
    جس طرح ندي کے نغموں سے سکوت کوہسار
    تيرے فردوس تخيل سے ہے قدرت کي بہار
    تيري کشت فکر سے اگتے ہيں عالم سبزہ وار
    زندگي مضمر ہے تيري شوخي تحرير ميں
    تاب گويائي سے جنبش ہے لب تصوير ميں
    نطق کو سو ناز ہيں تيرے لب اعجاز پر
    محو حيرت ہے ثريا رفعت پرواز پر
    شاہد مضموں تصدق ہے ترے انداز پر
    خندہ زن ہے غنچہ دلي گل شيراز پر
    آہ! تو اجڑي ہوئي دلي ميں آراميدہ ہے
    گلشن ويمر ميں تيرا ہم نوا خوابيدہ ہے
    لطف گويائي ميں تيري ہمسري ممکن نہيں
    ہو تخيل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشيں
    ہائے! اب کيا ہو گئي ہندوستاں کي سر زميں
    آہ! اے نظارہ آموز نگاہ نکتہ بيں
    گيسوئے اردو ابھي منت پذير شانہ ہے
    شمع يہ سودائي دل سوزي پروانہ ہے
    اے جہان آباد ، اے گہوارہ علم و ہنر
    ہيں سراپا نالہ خاموش تيرے بام و در
    ذرے ذرے ميں ترے خوابيدہ ہيں شمں و قمر
    يوں تو پوشيدہ ہيں تيري خاک ميں لاکھوں گہر
    دفن تجھ ميں کوئي فخر روزگار ايسا بھي ہے؟
    تجھ ميں پنہاں کوئي موتي آبدار ايسا بھي ہے؟

  5. #5
    Join Date
    Aug 2010
    Location
    Horror Ful PLace
    Age
    23
    Posts
    121
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    Default Re: Allama Mohammad Iqbal (با نگ درا)

    ابر کوہسار

    ہے بلندي سے فلک بوس نشيمن ميرا
    ابر کہسار ہوں گل پاش ہے دامن ميرا
    کبھي صحرا ، کبھي گلزار ہے مسکن ميرا
    شہر و ويرانہ مرا ، بحر مرا ، بن ميرا
    کسي وادي ميں جو منظور ہو سونا مجھ کو
    سبزہ کوہ ہے مخمل کا بچھونا مجھ کو
    مجھ کو قدرت نے سکھايا ہے درافشاں ہونا
    ناقہ شاہد رحمت کا حدي خواں ہونا
    غم زدائے دل افسردہ دہقاں ہونا
    رونق بزم جوانان گلستاں ہونا
    بن کے گيسو رخ ہستي پہ بکھر جاتا ہوں
    شانہ موجہ صرصر سے سنور جاتا ہوں
    دور سے ديدہ اميد کو ترساتا ہوں
    کسي بستي سے جو خاموش گزر جاتا ہوں
    سير کرتا ہوا جس دم لب جو آتا ہوں
    بالياں نہر کو گرداب کي پہناتا ہوں
    سبزہ مزرع نوخيز کي اميد ہوں ميں
    زادہ بحر ہوں پروردہ خورشيد ہوں ميں
    چشمہ کوہ کو دي شورش قلزم ميں نے
    اور پرندوں کو کيا محو ترنم ميں نے
    سر پہ سبزے کے کھڑے ہو کے کہا قم ميں نے
    غنچہ گل کو ديا ذوق تبسم ميں نے
    فيض سے ميرے نمونے ہيں شبستانوں کے
    جھونپڑے دامن کہسار ميں دہقانوں کے

  6. #6
    Join Date
    Aug 2010
    Location
    Horror Ful PLace
    Age
    23
    Posts
    121
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    Default Re: Allama Mohammad Iqbal (با نگ درا)

    ايک مکڑا اور مکھي

    ماخوذ - بچوں کے ليے
    اک دن کسي مکھي سے يہ کہنے لگا مکڑا
    اس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تمھارا
    ليکن مري کٹيا کي نہ جاگي کبھي قسمت
    بھولے سے کبھي تم نے يہاں پائوں نہ رکھا
    غيروں سے نہ مليے تو کوئي بات نہيں ہے
    اپنوں سے مگر چاہيے يوں کھنچ کے نہ رہنا
    آئو جو مرے گھر ميں تو عزت ہے يہ ميري
    وہ سامنے سيڑھي ہے جو منظور ہو آنا
    مکھي نے سني بات جو مکڑے کي تو بولي
    حضرت! کسي نادان کو ديجے گا يہ دھوکا
    اس جال ميں مکھي کبھي آنے کي نہيں ہے
    جو آپ کي سيڑھي پہ چڑھا ، پھر نہيں اترا
    مکڑے نے کہا واہ! فريبي مجھے سمجھے
    تم سا کوئي نادان زمانے ميں نہ ہو گا
    منظور تمھاري مجھے خاطر تھي وگرنہ
    کچھ فائدہ اپنا تو مرا اس ميں نہيں تھا
    اڑتي ہوئي آئي ہو خدا جانے کہاں سے
    ٹھہرو جو مرے گھر ميں تو ہے اس ميں برا کيا!
    اس گھر ميں کئي تم کو دکھانے کي ہيں چيزيں
    باہر سے نظر آتا ہے چھوٹي سي يہ کٹيا
    لٹکے ہوئے دروازوں پہ باريک ہيں پردے
    ديواروں کو آئينوں سے ہے ميں نے سجايا
    مہمانوں کے آرام کو حاضر ہيں بچھونے
    ہر شخص کو ساماں يہ ميسر نہيں ہوتا
    مکھي نے کہا خير ، يہ سب ٹھيک ہے ليکن
    ميں آپ کے گھر آئوں ، يہ اميد نہ رکھنا
    ان نرم بچھونوں سے خدا مجھ کو بچائے
    سو جائے کوئي ان پہ تو پھر اٹھ نہيں سکتا
    مکڑے نے کہا دل ميں سني بات جو اس کي
    پھانسوں اسے کس طرح يہ کم بخت ہے دانا
    سو کام خوشامد سے نکلتے ہيں جہاں ميں
    ديکھو جسے دنيا ميں خوشامد کا ہے بندا
    يہ سوچ کے مکھي سے کہا اس نے بڑي بي !
    اللہ نے بخشا ہے بڑا آپ کو رتبا
    ہوتي ہے اسے آپ کي صورت سے محبت
    ہو جس نے کبھي ايک نظر آپ کو ديکھا
    آنکھيں ہيں کہ ہيرے کي چمکتي ہوئي کنياں
    سر آپ کا اللہ نے کلغي سے سجايا
    يہ حسن ، يہ پوشاک ، يہ خوبي ، يہ صفائي
    پھر اس پہ قيامت ہے يہ اڑتے ہوئے گانا
    مکھي نے سني جب يہ خوشامد تو پسيجي
    بولي کہ نہيں آپ سے مجھ کو کوئي کھٹکا
    انکار کي عادت کو سمجھتي ہوں برا ميں
    سچ يہ ہے کہ دل توڑنا اچھا نہيں ہوتا
    يہ بات کہي اور اڑي اپني جگہ سے
    پاس آئي تو مکڑے نے اچھل کر اسے پکڑا
    بھوکا تھا کئي روز سے اب ہاتھ جو آئي
    آرام سے گھر بيٹھ کے مکھي کو اڑايا

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •