Results 1 to 2 of 2

Thread: شہید کی موت

  1. #1
    Join Date
    Mar 2008
    Location
    Hijr
    Posts
    152,763
    Mentioned
    104 Post(s)
    Tagged
    8577 Thread(s)
    Thanked
    80
    Rep Power
    21474998

    candel شہید کی موت


    فیصل شہزاد کی امریکی کورٹ میں آخری گفتگو

    ۵ اکتوبر ۲۰١۰ء

    خصوصی پیشکش: انصاراللہ اردو بلاگ

    کمرہ عدالت: جج کے کمرے میں داخل ہوتے ہی، سب کھڑے ہوجاتے ہیں، سوائے فیصل شہزاد کے۔

    جج: مسٹر شہزاد؟

    فیصل: ہاں۔

    جج: میرا خیال، آپکو کھڑے ہونا چاہیئے؟

    فیصل: کوئی جواب نہیں۔

    جج: کیا آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں؟

    فیصل: مجھے اپنی بات کہنے کے لیئے ۵ سے ١۰ منٹ چاہیئے ہیں۔ مجھے امید ہیں کہ جج اور کورٹ اپنا فیصلہ سنانے سے پہلے، میری بات غور سے سنیں گے۔


    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    یہ صرف ایک زندگی ہے۔ اگر مجھے ہزاروں زندگیاں بھی ملیں، تو میں انہیں بخوشی اللہ تعالی کی راہ میں جہاد کرتے، اپنی سرحدوں کا دفاع کرتے اور اللہ تعالی کے قانون کی سربلندی کے لیئے قربان کردوں گا۔ اللہ تعالی کا قانون ہر انسانی نظام اور قانون سے بالاتر اور عظیم ہے۔ ہم انسان کے بنائے ہوئے قوانین کی پابندی نہیں کرتے کیونکہ یہ ہمیشہ باطل ہی ہوتے ہیں۔ اور میں حال ہی میں بہت اچھی طرح تمہارے قوانین دیکھ چکا ہوں۔ جب تمہاری ایف ۔ بی ۔ آئی نے جبری گرفتاری کے دوسرے دن، مجھے امریکی شہریت کے تحت حقوق دینے سے انکار کردیا۔ جسکی وجہ سے میرا خاندان اور بچے متاثر ہوئے۔ تمہاری دی ہوئی سزا میرے لیئے کوئی معنی نہیں رکھتی کیونکہ تمہاری یہ عدالت مجھے کیسے سزا دے سکتی ہے، جب وہ میرے لوگوں پر ہوتے ہوئے مظالم نہ سمجھتی ہے۔ جب تمہارےنزدیک مسلمانوں کی زندگیوں کی کوئی اہمیت ہی نہیں، تو تم کس طرح ہماری بات سمجھ سکتے ہو؟ اور کیسے ہمارے ساتھ انصاف کرسکتے ہو؟ انشاء اللہ روز قیامت اللہ تعالی فیصلہ کریگا کہ تم میں اور ہم میں کون حق پر تھا۔ تمہاری سزا صرف اور صرف اس دنیا کی حد تک ہے، سو جو تم نے کرنا ہے کرلو اور جو سزا دینی ہے دے لو۔

    پچھلے نو سال سے امریکی اور نیٹو کے صلیببی، جمہوریت اور آزادی کے نام پر مسلمانوں کی املاک اور علاقوں پر غاصبانہ قبضہ کرچکے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کررہے ہیں۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ ہم نہ ہی تمہاری جمہوریت کو مانتے ہیں اور نہ ہی تمہاری نام نہاد آزادی کو تسلیم کرتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے پاس اللہ تعالی کا قانون اور اسکی دی ہوئی آزادی موجود ہے۔

    میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ تیار ہوجاؤ، تمہاری جنگ مسلمانوں سے شروع ہوچکی ہے۔ میں تو بارش کا پہلا قطرہ ہوں۔ میرے پیچھے آنے والے سیلاب کی تباہی کے لیئے تیار ہوجاؤ۔ اور یہ بات یاد رکھنا کہ یہ نہ جاپانی امپیریلیزم ہے، نہ جرمن امپیریلیزم اور نہ ہی یہ ویت نام ہے اور نہ ہی روسی کمیونزم۔ اس بار تمہاری ٹکر ان لوگوں سے ہے جو اللہ تعالی کی کتاب اور اسکے احکامات پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ تمہاری یہ جنگ اللہ سبحانہ وتعالی سے ہے اور میں بھی دیکھتا ہوں کہ تم کیسے اپنے خالق سے لڑ سکتے ہو۔ تم کبھی بھی اس میں کامیاب نہیں ہوسکتے چنانچہ تمہاری شکست یقینی ہے اور وہ بہت قریب ہے۔ انشاء اللہ۔

    تمہاری شکست کے ساتھ ہی خلافت اسلامیہ وجود میں آئے گی، جو کہ حقیقی اور سچا یونیورسل ورلڈ آرڈر ہے۔ عنقریب تمہارا بچا کچھا وہ سرمایہ جس نے تمہاری کمزور اور ناقص معیشیت کو سنبھال رکھا ہے، ختم ہو جائیگا اور تم لوگ جنگی اخراجات اٹھانے کے قابل نہیں رہو گے۔

    جج: تمہیں امریکی شہریت کچھ سال پہلے ہی ملی ہے، کیا میں ٹھیک کہ رہا ہوں؟

    فیصل: ہاں! جہاں تک مجھے یاد ہے پچھلے سال اپریل میں۔

    جج: جب تمہیں شہریت مل رہی تھی، تو کیا تم نے امریکہ سے وفاداری کی قسم نہیں کھائی تھی؟

    فیصل: ہاں! قسم کھائی تھی، مگر وہ جھوٹی تھی۔

    جج: ٹھیک ہے، کچھ اور کہنا چاہتے ہوں؟

    فیصل: کیوں نہیں! مجھے افسوس ہے کہ میں ایک غلام ملک پاکستان میں پیدا ہوا۔ جس نے اپنی آزادی کے پہلے دن سے ہی مغرب کی غلامی اختیار کرلی تھی۔ بش نے جب یہ جنگ شروع کی تھی، تو اس نے واضح الفاظ میں کہ دیا تھا کہ یا تو تم ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے خلاف ہو۔ اس سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ ہم مسلمان یا تو مجاہدین کے ساتھ ہیں یا تو ہم صلیبی ۔۔۔ ہارنے والے عیسائیوں ۔۔۔ کے ساتھ ہیں۔ اسکے علاوہ ان چیزوں کا اور کوئی مطلب نہیں۔ اللہ تعالی کی رحمت ہو مہاجدین پر اور امیر شیخ اسامہ بن لادن پر، جو اکیسویں صدی کی صلیبی جنگ کے صلاح الدین ایوبی رحمة اللہ کے طور پر جانے جائینگے اور اللہ تعالی کی رحمت ہو، ان لوگوں پر جنہوں نے مجاہدین کو پناہ دی۔

    جج: آپ صلاح الدین ایوبی رحمة اللہ کے بارے میں کتنا جانتے ہیں؟

    فیصل: میں صلاح الدین ایوبی رحمة اللہ کے بارے میں کتنا جانتا ہوں؟

    جج: ہاں؟

    فیصل: وہ مسلمان لیڈر تھے۔ جنہوں نے مغربی یورپین ملکوں کے خلاف پہلی صلیبی جنگ لڑی تھی۔

    جج: لیکن وہ لوگوں کو قتل کرنا نہیں چاہتے تھے؟

    فیصل: وہ مسلمانوں کو آزاد کرانا چاہتے تھے۔

    جج: وہ بہت روشن خیال انسان تھے؟

    فیصل: انہوں نے مسلمانوں کے علاقوں کو یہودیوں اور عیسائیوں سے آزاد کرایا تھا۔ اور یہی مقصد ہمارا بھی ہے۔ کیونکہ تم نے جمہوریت اور آزادی کے نام پر عراق اور افغانستان پر قبضہ کرلیا ہے۔ ہم یہ کبھی نہیں ہونے دیں گے۔ انشاء اللہ۔ ہمارے پاس اللہ تعالی کا قانون شریعت کی شکل میں موجود ہے۔ ہمیں، تمہارے انسانی بنائے ہوئے قوانین کی کوئی ضرورت نہیں۔

    جج: ٹھیک ہے۔ ٹھیک ہے۔ کیا تمہارا وکیل کچھ کہنا چاہتا ہے؟

    فیصل: میں اپنی بات مکمل کرنا چاہتا ہوں، مجھے صرف دو منٹ مزید چاہیئے ہیں؟

    جج: ٹھیک ہے۔ میں سننا چاہتی ہوں کہ تم اپنی سزا کے متعلق کیا کہنا چاہتے ہو؟

    فیصل: کیوں نہیں! میں اس بات کی طرف ہی آرہا ہوں۔ پچھلے نو سال میں مسلمانوں سے جنگ میں امریکہ کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔ سوائے اس کے کہ مسلمانوں کو جگا دیا ہے۔ مسلمان تو صرف اپنے دین، اپنے لوگوں اور اپنی عزتوں اور سرزمین کی حفاظت اور دفاع کی کوششیں کر رہے ہیں۔ اگر اس وجہ سے تم ہمیں دہشت گرد کہتے ہو، تو ہم فخر سے کہتے ہیں کہ ہاں ہم دہشت گرد ہیں۔ اور ہم، تمہیں دہشت زدہ کرتے رہیں گے، جب تک تم ہماری سرزمینوں اور علاقوں سے نکل نہیں جاتے اور لوگوں کو امن سے نہیں چھوڑ دیتے اور اگر تم نے ایسا نہ کیا، تو یاد رکھو۔۔۔! تمہارے پاس گھڑیاں ہیں اور ہمارے پاس وقت ہے۔ ہم تمہیں وقت سے شکست دیں گے۔ اس سے پہلے کہ میں اپنی بات ختم کروں، میں تم لوگوں کو ایک پیغام دینا چاہتا ہوں جو کہ پیغام حق ہے۔ تاکہ روز قیامت تمہاری اللہ تعالی سے جب ملاقات ہو، تو تم یہ نہ کہ سکو کہ کسی نے تم تک پیغام نہیں پہنچایا۔ پیغآم یہی ہے کہ اللہ تعالی ایک ہے۔ اللہ تعالی ہی رب کائنات ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے آخری نبی ہیں۔ قرآن پاک، اللہ تعالی کی آخری کتاب ہے جو پیغام دیتی ہے کہ اسلام قبول کرلو۔ مسلمان ہوجاؤ اور اپنے آپ کو قیامت کے دن کی ہولناکیوں سے بچاؤ۔

    ﴿اَشْهَدُ اَنْ لَّآ اِلٰهَ اِلَّا اللہُ وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدً اعَبْدُه وَرَسُوْلُه﴾۔

    جج: ٹھیک ہے۔

    فیصل: شکریہ۔

    جج: آپ کا وکیل کچھ کہنا چاہتا ہے؟

    وکیل: جی جناب! میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ دو ہفتے قبل ہی شہزاد نے مجھے منع کردیا تھا کہ میں کچھ نہ بولوں۔

    جج: سب باتیں سننے کے بعد، میں فیصل شہزاد کو عمر قید کی سزا سناتی ہوں۔

    فیصل: اللہ اکبر ۔۔۔ اللہ اکبر۔

    جج نے فیصل کو ٦ مرتبہ عمر قید کی سزا اور اس کے علاوہ ۲۰ سال اور ١۰ سال قید اور متعدد جرمانے لاگو کیے۔ جس پر اس نے خوشی کا اظہار کیا اور دو مرتبہ نعرہ تکبیر بلند کیا۔ سبحان اللہ !

    اس پر فیصل شہزاد کا آخری جملہ:

    اگر تم مجھے بولنے دو۔ میری سزا صرف اس عمر کے اختتام تک ہے جتنی مہلت اللہ تعالی نے مجھے دی ہے، اس ذاتی زندگی میں۔ لیکن اگر تم لوگ ایمان نہیں لاتے، تو آخرت کی زندگی جس پر تم لوگ یقین نہیں رکھتے، وہ زندگی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہے۔ سو، جو سودا میں نے اللہ تعالی سے کیا ہے، اس پر میں بہت خوش ہوں۔ قرآن پاک ہمیں اپنے دفاع کا حق دیتا ہے اور میں یہی کر رہا ہوں۔

    اللہ تعالی کا فرمان ہے:

    آیت: ﴿ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَانتَظِرْ إِنَّهُم مُّنتَظِرُونَ﴾۔

    ترجمہ: ﴿سو ان سے کنارہ کر اور انتظار کر، وہ بھی انتظار کر رہے ہیں﴾۔ (سورة السجدة ۔ ۳۰)




  2. #2
    Join Date
    Aug 2010
    Posts
    24,389
    Mentioned
    0 Post(s)
    Tagged
    0 Thread(s)
    Thanked
    0
    Rep Power
    0

    Default Re: شہید کی موت

    nice sharing... most of the part is inspiring except where it comes to usama bin ladin that some how relates to taliban ....

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •