ذات کی دیوار بیچوں بیچ اِک دَر وا ہُوا
آخری لمحوں میں گَر ہو بھی گیا,
تو کیا ہُواتیری میری آنکھ کی مٹّی ہمیشہ نَم رہے
ہو اَبَد سے بھی پَرے رُخصت کا پَل پھیلا ہُوا