جہاں جہاں تری نظروں کی اوس ٹپکی تھی
وہاں وہاں سے ابھی تک غبار اٹھتا ہے
جہاں جہاں ترے جلووں کے پھول بکھرے تھے
وہاں وہاں دلِ وحشی پکار اٹھتا ہے
٭٭٭