Results 1 to 2 of 2

Thread: آغا طالش

  1. #1
    Join Date
    Nov 2014
    Location
    Lahore,Pakistan
    Posts
    25,270
    Mentioned
    1562 Post(s)
    Tagged
    20 Thread(s)
    Thanked
    5876
    Rep Power
    214780

    candel آغا طالش

    آغا طالش
    a.jpg
    عبدالحفیظ ظفر
    پاکستانی فلمی صنعت کے عظیم ہدایت کار اور مکالمہ نگار ریاض شاہد نے ایک بار ببانگِ دُہل کہا تھا کہ پاکستان میں اڑھائی ایکٹر ہیں۔آغا طالش، علاؤ الدین اور آدھا محمد علی۔جس دور میں ریاض شاہد نے یہ بیان دیا اُس وقت پاکستان فلمی صنعت کو کئی اور شاندار اداکار بھی میسر تھے لیکن ریاض شاہد چونکہ سخت گیر نقاد تھے اور اداکاروں کو پرکھنے کا ان کا اپنا ایک معیار تھا۔ ان اڑھائی اداکاروں میں آغا طالش کا نام سرفہرست ہے۔ وہ ایک ورسٹائل اداکار تھے جنہوں نے اردو اور پنجابی دونوں زبانوں کی فلموں میں شاندار کام کیا۔ وہ وِلن بھی تھے اور کیریکٹر ایکٹربھی۔ انہوں نے مزاحیہ اداکاری بھی کی اور ثابت کیا کہ وہ ہر قسم کے کردار ادا کر سکتے ہیں۔آغا طالش کا اصل نام آغا علی عباس قزلباش تھا۔ وہ 10نومبر 1926 کو لدھیانہ (بھارتی پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ انہیں سیف الدین سیف کی مشہور زمانہ فلم ’’سات لاکھ‘‘ (1957ئ)سے شہرت ملی۔ شاندار طریقے سے عکس بند کروائے گئے گانے ’’یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں‘‘ پر اُن کو بہت سراہا گیا۔ 1962ء میں فلم ’’شہید‘‘ نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ ’’شہید‘‘ کے ہدایت کار خلیل قیصر تھے ، سکرپٹ ریاض شاہد نے تحریر کیا تھااور موسیقی رشید عطرے نے ترتیب دی تھی۔ اس فلم کے گیت بھی بہت مشہور ہوئے تھے۔ مسرت نذیر نے بھی اس فلم میں یادگار اداکاری کا مظاہرہ کیا تھا۔ منیر نیازی کی شہرہ آفاق غزل ’’اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو‘‘ نسیم بیگم نے اسی فلم کیلئے گائی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ آغا طالش نے پاکستان آنے کے بعد 1952 میں فلم ’’نتھ‘‘ میں کام کیا تھا اور یہیں سے انہوں نے بتا دیا تھا کہ وہ زبردست صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ خلیل قیصر کی ایک اور فلم ’’فرنگی‘‘ میں آغا طالش نے چونکا دینے والی اداکاری کی۔ پھر ریاض شاہد کی فلم ’’سسرال‘‘ میں انہوں نے علاؤ الدین، یوسف خان اور لیلیٰ کے ساتھ کام کیا۔ اس فلم میں انہوں نے لیلیٰ کے باپ کا کردار ادا کیا تھا۔ مکالموں کی ادائیگی میں انہیں بے مثال کنٹرول حاصل تھا۔ اس کے علاوہ ان کا تلفظ بھی شاندار تھا۔ 1969 میں انہوں نے ریاض شاہد کی فلم ’’زرقا‘‘ میں یہودی میجر ڈیوڈ کا کردار جس مہارت سے ادا کیا اس کی مثال ملنا مشکل ہے، یہ ایک یادگار فلم تھی جس میں انہوں نے علاؤ الدین، اعجاز اور نیلو کے ساتھ کام کیا تھا۔ اس فلم میں نیلو نے بھی شاندار اداکاری کا مظاہرہ کیا۔ بہرحال ’’زرقا‘‘ طالش کی بہترین فلموں میں سے ایک ہے۔ فلم ’’یہ امن‘‘ (1971ئ) بھی آغا طالش کی اہم ترین فلموں میں سے ایک ہے۔ آزادیِ کشمیر پر بنائی گئی اس فلم میں انہوں نے ہندو پنڈت کا کردار ادا کیا تھا۔ آغا طالش کے مکالموں کی ادائیگی اور چہرے کے تاثرات نے فلم بینوں کو حیرت زدہ کر دیاتھا۔ خواجہ سرفراز کی فلم ’’دیو داس‘‘ میں انہوں نے چُنی بابو کا کردار بھی بڑی مہارت سے ادا کیا اور خوب داد حاصل کی۔ ریاض شاہد کی ایک اور فلم ’’غرناطہ‘‘ میں انہوں نے ابو داؤد کا کردار ادا کیا۔ یہ ایک منفی کردار تھا جسے آغا صاحب نے اپنی بے مثل اداکاری سے یادگار بنا دیا۔ وہ اپنے ہر کردار میں ڈوب جاتے تھے۔ آغا طالش کی علاؤ الدین مرحوم سے بڑی دوستی تھی اور انہوں نے اکٹھے کئی فلموں میں کام کیا۔ ان دونوں کی ایک یادگار فلم ’’سچائی‘‘ تھی جس کی ہدایات پرویز ملک نے دی تھیں۔ ’’سچائی‘‘ میں ان دونوں لیجنڈ فنکاروں نے مزاحیہ اداکاری کی تھی اور فلم بینوں نے ان کی اداکاری کو خوب سراہا تھا۔ ایک اور مزاحیہ فلم ’’بڑے میاں دیوانے‘‘ میں طالش کی اداکاری لاجواب تھی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ وہ حقیقی معنوں میں ایک ورسٹائل فنکار ہیں۔ انہوں نے پنجابی فلموں میں بھی شاندار اداکاری کی۔ ان کی پنجابی فلموں میں ’’ماما جی، مکھڑا، ناچے ناگن، وڈیرا، عشق نچاوے گلی گلی اور دھی رانی‘‘ کے نام خاص طور پر لیے جا سکتے ہیں۔ اسلم ڈار کی فلم ’’عشق نچاوے گلی گلی‘‘ میں انہوں نے ایک ظالم زمیندار کا کردار ادا کیا تھا ۔ آخری مناظر میں انہوں نے اتنی جذباتی اداکاری کی کہ فلم بینوں کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں۔ الطاف حسین کی فلم ’’دھی رانی‘‘ میں انہوں نے ممتاز کے باپ کا کردار ادا کیا تھا۔ 1985 میں ریلیز ہونے والی اس فلم نے باکس آفس پر بے پناہ کامیابی حاصل کی۔ ویسے تو یوسف خان، انجمن اور ننھا نے بھی لاجواب اداکاری کی تھی لیکن سچی بات یہ ہے کہ آغا طالش نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ آغا طالش کی دیگر اُردو فلموں میں ’’سسرال، باغی، زندگی، بندش، حیدر علی، غرناطہ، بازارِ حسن، سالگرہ، صاعقہ، عندلیب، لاکھوں میں ایک، ہمراز، گہرا داغ، کالا پانی، ان داتا، عجب خان اور آدمی‘‘ کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے 90 فلموں میں کام کیا۔ جب فلمی صنعت زوال کا شکار ہوئی تو آغا طالش بھی مایوسی کے اندھیروں میں ڈوب گئے۔ ان کی چار بیٹیاں اور ایک بیٹا ہیں۔یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ آغا طالش کو یہ نام مشہور افسانہ نگار کرشن چندر نے دیا تھا۔ ساحر لدھیانوی نے آغا جی کو کرشن چندر سے ملوایا تھا جو اس وقت اپنی فلم ’’سرائے کے باہر‘‘ بنا رہے تھے۔ کرشن چندر نے اس فلم میں آغا طالش کو ایک چھوٹا سا کردار دیا تھا۔19فروری 1998 کو آغا طالش اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ اُن کی فنی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ٭…٭…٭

    2gvsho3 - آغا طالش

  2. The Following User Says Thank You to intelligent086 For This Useful Post:


  3. #2
    Join Date
    Mar 2018
    Location
    Pakistan
    Posts
    2,428
    Mentioned
    9072 Post(s)
    Tagged
    3539 Thread(s)
    Thanked
    1626
    Rep Power
    6

    Default Re: آغا طالش

    Very Nice
    tfs

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •