ہر چند حسن ساز ہوں پیکر تراش ہوں
لیکن خد آئنے کی طرح پاش پاش ہوں

دل ہی کی دھڑکنوں سے تھی رفتار زندگی
جب دل ہی مر چکا ہے تو پھر زندہ لاش ہوں

آٹھوں پہر سکون میسر نہیں مجھے
ہر لمحہ جو کسکتی رہے وہ خراش ہوں

تصویر عہد نو ہے مجسم مرا وجود
آلام روزگار ہوں فکر معاش ہوں

میرے جنون شوق کی منزل نہیں کوئی
یعنی رہ طلب میں سراپا تلاش ہوں

واحدؔ کوئی بھی اس کی نہ تشخیص کر سکا
وہ کون سا مرض ہے جو صاحب فراش ہوں