کل ضرور آؤ گے لیکن آج کیا کروں
بڑھ رہا ہے قلب کا اختلاج کیا کروں

کیا کروں کوئی نہیں احتیاج دوست کو
اور مجھ کو دوست کی احتیاج کیا کروں

اب وہ فکر مند ہیں کہہ دیا طبیب نے
عشق ہے جنوں نہیں میں علاج کیا کروں

غیرت رقیب کا شکوہ کر رہے ہو تم
اس معاملے میں سخت ہے مزاج کیا کروں

ماسوائے عاشقی اور کچھ کیا بھی ہو
سوجھتا ہی کچھ نہیں کام کاج کیا کروں

محو کار دیں ہوں میں بوریا نشیں ہوں میں
راہزن نہیں ہوں میں تخت و تاج کیا کروں

زور اور زر بغیر عشق کیا کروں حفیظؔ
چل گیا ہے ملک میں یہ رواج کیا کروں
: