فطرت نہیں بدلتی…

مہوش مختار
فاطمہ امی سے ضد کرتی ہے کہ مجھے بھی کپڑے استری کرنے ہیں۔ نہیں کرن بیٹا! ابھی نہیں… تم کپڑے استری کرنے کے لئے بہت چھوٹی ہو۔ امی! ایک دفعہ!بس ایک بار کرنے دیں… اچھا، اچھا! فاطمہ یہ لو… بھائی کا واشن ویئر کا کرتا ہے اسے استری کرو اور استری تین اور چار نمبر پر رکھ کر کرنا… جی امی ! کرن میں کچن میں جا رہی ہوں دھیان سے استری کرنا… جی امی فکر نہ کریں… امی کا باہر نکلنا ہی تھا کہ فاطمہ نے استری کو چھ نمبر پر کر دیا۔
اور پھر کیا ہونا تھا؟ کرتا جل گیا۔ فاطمہ کا ایک رنگ جائے اور ایک رنگ آئے اب کیا ہو گا؟ امی تو ڈانٹیں گی۔ ان کے منع کرنے کے باوجود میں نے ضد کی…اتنے میں فاطمہ کی امی کمرے میںداخل ہوئیں اور فاطمہ کو صوفے پر ہاتھ پکڑے پریشانی کے عالم میں پایا… کیا ہوا فاطمہ؟ امی! امی! مجھے کرنٹ لگ گیا… ماں نے فاطمہ کو گلے لگایا جلد ہی پہلے استری کے میز کی جانب بڑھیں تو استری کرتے کے اوپر پڑی تھی ماں نے جلے کرتے کو زمین پر پھینکا اور کہا کہ بھاڑ میں جائے یہ کرتا اللہ کا شکر ہے کہ تم بچ گئی ماں کا پیار دیکھتے ہوئے اور جھوٹ کا پلڑا بھاری ہونے کی وجہ سے فاطمہ دل ہی دل میں خوش ہو رہی تھی…
پھر وہ دن جائے اور آج کا دن آئے فاطمہ کو جب بھی ماں سے ڈانٹ پڑنے کا خطرہ لاحق ہوتا تو وہ جھوٹ کا سہارا لے کر بات پلٹ دیتی… رات کو جب فاطمہ کے چھوٹے بھائی نے دادی ماں سے کہانی سننے کا اصرارکیا تودادی ماں نے ایک شخص کی کہانی سنائی جو راستے میں پڑے سردی کے باعث کانپنے والے سانپ کے بچے کو گھر لے آیا اور آگ جلا کر اسے راحت پہنچائی اور اسے مرنے سے بچا لیا یہاں تک کہ دو سال تک اسے پالا خوب دیکھ بھال کی اور صبح و شام اسے دودھ پلاتا… ایک دن جب وہ شخص سو رہا تھا تو سانپ نے اسے ڈنک مار دیا… دادی ایسا کیوں کیا اس نے ؟ ایسا اس لئے ہوا کہ سانپ کی فطرت میں ہے ڈنک مارنا… عادت کو بدلا جا سکتا ہے فطرت کو نہیں… اور یہی حال انسان کا ہے جب انسان اپنی عادت کو بدلتا نہیں تو وہ فطرت بن جاتی ہے اور کبھی نہیں بدلتی۔


فاطمہ کے دادی ماں کی بات سے سنتے ہی اوسان خطا ہو گئے اور سوچنے لگی کہ کہیں میری جھوٹ بولنے والی عادت بھی فطرت کی شکل اختیار نہ کر لے؟ نہیں میں ایسا نہیں ہونے دوں گی؟ اب سے میںکبھی جھوٹ نہیں بولوں گی… انسان کو ہمیشہ اپنی بری عادتوں کو ترک کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ایسا نہ ہو کہ بری عادات فطرت بن جائیں۔