خون پھر خون ہے

ایک مقتول لوممبا، ایک زندہ لوممبا سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے
جواہر لال نہرو

ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا

خاکِ صحرا پہ جمے یا کفِ قاتل پہ جمے
فرقِ انصاف پہ یا پائے سلاسل پہ جمے
تیغِ بیداد پہ، بالا شہِ بسمل پہ جمے
خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا

لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کے کمیں گاہوں میں
خون خود دیتا ہے جلّادوں کے مسکن کا سراغ
سازشیں لاکھ اڑھاتی رہیں ظلمت کی نقاب
لے کے ہر بوند نکلتی ہے ہتھیلی پہ چراغ

ظلم کی قسمتِ ناکارہ و رسوا سے کہو
جبر کی حکمتِ پُرکار کے ایما سے کہو
خون دیوانہ ہے، دامن پہ لپک سکتا ہے
شعلۂ تند ہے، خرمن پہ لپک سکتا ہے

تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہا
آج وہ کوچۂ و بازار میں آ نکلا ہے
کہیں شعلہ، کہیں نعرہ، کہیں پتھر بن کر
خون چلتا ہے تو رکتا نہیں سنگینوں سے
سر اٹھاتا ہے تو دبتا نہیں آئینوں سے

ظلم کی بات ہی کیا، ظلم کی اوقات ہی کیا
ظلم بس ظلم ہے، آغاز سے انجام تلک
خون پھر خون ہے، سو شکل بدل سکتا ہے
ایسی شکلیں کہ مٹاؤ تو مٹائے نہ بنے
ایسے شعلے کہ بجھاؤ تو بجھائے نہ بنے
ایسے نعرے کہ دباؤ تو دبائے نہ بنے
٭٭٭