ہم عصر


تو بھی کچھ پریشاں ہے
تو بھی سوچتی ہو گی
تیرے نام کی شہرت، تیرے کام کیا آئی
میں بھی کچھ پشیماں ہوں
میں بھی غور کرتا ہوں
میرے کام کی عظمت، میرے کام کیا آئی
تیرے خواب بھی سونے
میرے خواب بھی سونے
تیری میری شہرت سے
تیرے میرے غم دونے
تو بھی اک سلگتا بن
میں بھی اک سلگتا بن
تیری قبر تیرا فن
میری قبر میرا فن
اب تجھے میں کیا دوں گا
اب مجھے تو کیا دے گی
تیری میری غفلت کو
زندگی سزا دے گی

تو بھی کچھ پریشاں ہے
تو بھی سوچتی ہو گی
تیرے نام کی شہرت، تیرے کام کیا آئی

میں بھی کچھ پشیماں ہوں
میں بھی غور کرتا ہوں
میرے کام کی عظمت، میرے کام کیا آئی
٭٭٭