کام کی بات میں نے کی ہی نہیں
یہ میرا طورِ زندگی ہی نہیں

اے اُمید، اے اُمیدِ نو میداں
مجھ سے میّت تیری اُٹھی ہی نہیں

میں جو تھا اِس گلی کا مست خرام
اس گلی میں میری چلی ہی نہیں

یہ سنا ہے کہ میرے کوچ کے بعد
اُس کی خوشبو کہیں بسی ہی نہیں

تھی جو اِک فاختہ اُداس اُداس
صبح وہ شاخ سے اُڑی ہی نہیں

مجھ میں اب میرا جی نہیں لگتا
اور ستم یہ کے میرا جی ہی نہیں

وہ رہتی تھی جو دل محلے میں
وہ لڑکی مجھے ملی ہی نہیں

جائیے اور خاک اڑائیں آپ
اب وہ گھر کیا کے وہ گلی ہی نہیں

ہائے وہ شوق جو نہیں تھا کبھی
ہائے وہ زندگی جو تھی ہی نہیں