سب چلے جاؤ مجھ میں تاب نہیں
نام کو بھی اب اِضطراب نہیں

خون کر دوں تیرے شباب کا میں
مجھ سا قاتل تیرا شباب نہیں

اِک کتابِ وجود ہے تو صحیح
شاید اُس میں دُعاء کا باب نہیں

تو جو پڑھتا ہے بو علی کی کتاب
کیا یہ عالم کوئی کتاب نہیں

ہم کتابی صدا کے ہیں لیکن
حسبِ منشا کوئی کتاب نہیں

بھول جانا نہیں گناہ اُسے
یاد کرنا اُسے ثواب نہیں

پڑھ لیا اُس کی یاد کا نسخہ
اُس میں شہرت کا کوئی باب نہیں