تم جو ہوتے تو ہمیں کتنا سہارا ہوتا
ہم نے اوروں کو نہ یوں دکھ میں+پکارا ہوتا
جتنی شدت سے میں +وابستہ تھا تم سے فرحت
کس طرح میرا ترے بعد گزارا ہوتا
مجھ کو یہ سوچ ہی کافی ہے جلانے کے لئے
میں نہ ہوتا تو کوئی اور تمہارا ہوتا
اور ہم بیٹھ کے خاموشی سے روئے جاتے
شام ہوتی کسی دریا کا کنارا ہوتا
دل سے دیکھی نہیں جاتی تھی خاموشی گھر کی
کس طرح اجڑا ہوا شہر گوارا ہوتا
تو نے سوچا ہے کبھی کتنا محبت کے بغیر
روح فرسا دلِ ویراں کا نظارا ہوتا
***