کس انوکھے دشت میں ہو اے غزالانِ ختن
یاد آتا ہے تمھیں بھی اب کبھی اپنا وطن

خوں رلاتی ہے مجھے اک اجنبی چہرے کی یاد
رات دن رہتا ہے آنکھوں میں وہی لعلِ یمن

عطر میں ڈوبی ہوئی ہے کوۓ جاناں کی ہوا
آہ اس کا پیرہن اور اس کا صندل سا بدن

رات اب ڈھلنے لگی ہے بستیاں خاموش ہیں
تو مجے سونے نہیں دیتی مرے جی کی جلن

یہ بھبھوکا لال مکھ ہے اس پری وش کا منیرؔ
یا شعاعِ ماہ سے روشن گلابوں کا چمن