او میرے مصروف خدا


او میرے مصروف خدا
اپنی دنیا دیکھ ذرا
اتنی خلقت کے ہوتے
شہروں میں ہے سنّاٹا
جھونپڑی والوں کی تقدیر
بجھا بجھا سا ایک دیا
خاک اڑاتے ہیں دن رات
میلوں پھیل گۓ صحرا
زاغ و زغن کی چیخوں سے
سوٗنا جنگل چیخ اُٹھا
پیاسی دھرتی جلتی ہے
سوکھ گۓ بہتے دریا
فصلیں جل کر راکھ ہوئیں
نگری نگری کال پڑا
او میرے مصروف خدا
اپنی دنیا دیکھ ذرا