یہ شام تمھارے نام

کیا ضروری ہے کہ ہاتھوں میں ترا ہاتھ بھی ہو
چند یادوں کی رفاقت ہی بہت کافی ہے
لوٹ چلتے ہیں اسی پل سے گھروں کی جانب
یہ تھکن اتنی مسافت ہی بہت کا فی ہے
٭٭٭