جیل دوسرا گھر ہے, حکومت کو اب مزید وقت نہیں دینگے : زرداری
aa.jpg
فضل الرحمن بھائی ،جہاں قدم رکھیں گے ،ساتھ قدم بڑھا ئینگے ، ہو سکتا ہے پی پی خود سڑکوں پر آئے ،پریس کانفرنس، جے یو آئی ف کے امیر سے ملاقات کلمہ پڑھ کر کہتا ہوں کبھی کرپشن نہیں کی ،اسپیکر سندھ اسمبلی پر حملہ نا قابل قبول،پرویز الٰہی، پرویز خٹک کو کیوں نہیں گرفتارکیا ؟بلاول کی میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد، لندن ، کراچی (نمائندہ دنیا ،مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں)پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے کہا جیل دوسرا گھر ہے ، ڈرنے والے نہیں ،ہر دور میں پیپلز پارٹی کو اپنوں نے دغا دیا، حکومت کو 9،8ماہ دے دیئے ،اب مزید وقت نہیں دے سکتے ،مولانا فضل الرحمن دوست اور بھائی ہیں،جہاں قدم رکھیں گے ان کے ساتھ قدم بڑھائیں گے ، ہو سکتا ہے پیپلز پارٹی خود بھی سڑکوں پر آئے ، آغا سراج درانی کو گرفتار کرکے جمہوریت کو چیلنج کیا گیا، مجھ پر گاڑی ، ٹائر چوری اور ڈیوٹی کے کیس بنا ئے گئے ، یہ کیا بکواس ہے ؟ ایسا کیس بنا ئیں کہ مجھے غدار قرار دیا جائے ،پیپلز پارٹی نیب کا مقابلہ کرے گی ،بیک سیٹ ڈرائیور کو سیاست سمجھ نہیں آرہی،رواں سال گرمی میں بجلی کا بل گاڑی بیچ کر دینا پڑ ے گا، چاہتے ہیں حکومت چلے اور لوگوں کے مسائل حل کرے ،بھارت نے جارحانہ قدم اٹھایا تو پیپلزپارٹی فوج کیساتھ کھڑی ہو گی، اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران سابق صدر نے کہا ملک مشکل حالات سے گزر رہا ہے ، مقبوضہ کشمیرمیں صورتحال کشیدہ ہے ، جب وہ صدر تھے تب بھی پلوامہ جیسا واقعہ ہوا تھا اور ہم نے دنیا کو اپنے ساتھ رکھ کر ممبئی حملے جیسے واقعہ کا سامنا کیا اور سفارتی سطح پر اسے سنبھالا، موجودہ حالات میں نابالغ حکومت کو سمجھ نہیں آرہی کہ اسے کرنا کیا ہے ؟ پاکستان کئی سال سے دنیا میں تنہا ہوچکا اور تحریک انصاف کی حکومت کے بعد مزید تنہا ہو گیا ،سعودی ولی عہد کے دورے کے دوران ہمیں نہ نوازشریف اور شہباز شریف کو دعوت دی گئی ،ایک’’چارلی‘‘سے ٹویٹ کرا دیا گیا کہ اپوزیشن اس قابل نہیں کہ اسے بلایا جائے ، اگر ولی عہد محمد بن سلمان کے دورے کے موقع پر بلایا جاتا تو ضرور جاتا، چینی صدر کے دورے کے موقع پر نوازشریف نے بلایا تھا اور میں نے جا کر ملاقات کی تھی،سعودی ولی عہد کی عزت کرتے ہیں اور ان کی آمد کا خیر مقدم بھی کیا،آغا سراج درانی کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں ،کوئی منگی صاحب ہیں جو سندھ سے لائے گئے ہیں اور ہمارے سندھیوں کو گرفتار کررہے ہیں، ہم پر گھیرا تنگ نہیں ہوسکتا کیونکہ گرفتاریوں کی پروا نہیں، آغا سراج درانی کو اسلام آباد سے گرفتار کرنے کی کیا ضرورت تھی؟کراچی سے ہی گرفتار کرلیتے ، پہلے بھی ایسے رویوں کا سامنا کیا آئندہ بھی کریں گے ،حکومت کے ساتھ ڈیل کی باتیں درست نہیں، بلاول میرا اور بے نظیر بھٹو کا بیٹا ہے ، اسے کہاں ڈراتے ہو؟ انہیں ڈرا ئیں ،جنہو ں نے کبھی جیل نہیں دیکھی، بلاول مقابلہ کرے گا، ہمیں طاقت کی پیاس نہیں صرف مسائل حل کرنا چاہتے ہیں، شہباز شریف کو ضمانت ہونے پر مبارکباد دیتے ہیں،چیئرمین نیب سپریم کورٹ کے جج تھے ، انہیں نوابشاہ سے نہیں لایا تھا، ان کی تعیناتی پر پشیمانی ہے ،نیب قوانین کو تبدیل ہونا چاہیے ،عدالت کے فیصلے پہلے بھی مانتے تھے اب بھی مانیں گے ،اداروں کا استحکام چاہتے ہیں، ہمارے دور میں ہی ججوں کی تنخواہیں بڑھائی گئیں ،صوبوں کے حقوق کی جنگ ضرور لڑیں گے ، صوبوں کا حصہ کم کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں ،اگر ایسا کیا گیا تو احساس محرومی میں مزید اضافہ ہوگا، ضمنی انتخابات کا مطالبہ حالات کے پیش نظر کیا جا سکتا ہے ، حکومت اپوزیشن کو تقسیم کرکے اپنا کاروبار چلانے کے راستے پر گامزن ہے ۔ قبل ازیں آصف زرادی نے جے یو آئی (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی جس میں سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے چیئرمین مولانا اسد محمود اور جے یو آئی (ف) کے دیگر رہنما بھی موجود تھے ، ملاقات میں اپوزیشن کے خلاف ہونے والی کارروائیوں پر لائحہ عمل ترتیب دینے پر غورکیا گیا اور دیگر امور بھی زیر بحث آئے ۔ ٹویٹر پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا وفاق کی اکائی کے سپیکر پر حملہ کسی صورت قبول نہیں ، بے نامی وزیراعظم کوبے وردی آمریت قائم نہیں کرنے دیں گے ، یہ سندھ حکومت کو گرانے کی غیرجمہوری کوشش ہے ، جس کو پہلے بھی ناکام بنایا آئندہ بھی بنائیں گے ، آزادادارے انجانے میں سیاسی انجینئرنگ کاحصہ نہ بنیں، لندن میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا انتخابات میں جیسے انجینئرنگ کی گئی سب کے سامنے ہے ، 2018 کے الیکشن پر سب کی انگلیاں اٹھی ہیں ،حکومت کو دھاندلی پر بھاگنے نہیں دیں گے ، حکومت کے خلاف وائٹ پیپرتیار کر رہے ہیں، نظام ٹھیک کرنا چاہتے ہیں ، اگر حکومت نے اس معاملے پر ہمارا ساتھ نہ دیا تو پھر بہتر نہیں ہوگا ،تمام اداروں کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، آزادی اظہار جمہوریت کے لئے اہم ستون ہوتا ہے ، لیکن نئے پاکستان میں آزادی صحافت نہیں، پاکستان میں صحافیوں کا تحفظ چاہتے ہیں، کوشش ہے ایسے قوانین منظورکرائیں جو آزادی اظہار کا موقع دیں، مجھے عدالت سے کوئی نوٹس نہیں ملا ،قانون کی حکمرانی ہوگی توعدلیہ مضبوط ہوگی، کئی ماہ سے ہمارے خاندان کامیڈیا ٹرائل چل رہاہے ، عدالتوں سے کبھی ریلیف نہیں ملا، پھر بھی اعلیٰ عدالت کے سامنے نظرثانی اپیل کا فیصلہ کیا ،میرا ٹرائل راولپنڈی میں کرنا ہے تو نواز شریف کا سندھ میں ہونا چاہیے ،پیپلز پارٹی تمام اداروں اور سیاسی جماعتوں کا احتساب چاہتی ہے ،قسم کھا کر اور کلمہ پڑھ کر کہتا ہوں کبھی کرپشن نہیں کی ، نیب مقدمات کا سامنا کرنے کو تیار ہوں،پاکستان میں سب کے لئے برابری کا قانون ہونا چاہیے ،اگر ملک میں ایک سال کے اندر تین بجٹ پیش کئے جائیں گے تو کیسے سرمایہ دار کا پاکستان کی معیشت پر اعتماد بحال ہو گا،وفاق کی جانب سے سندھ کو این ایف سی ایوارڈ کی مد میں رکھی جانی والی رقم نہیں دی جا رہی، جس سے سندھ کو انتظامی امور چلانے میں مشکلات کا سامنا ہے ،پاکستان میں کس قسم کا جنگل کا قانون چل رہاہے ؟سراج درانی کو گرفتار کیا ہے تو پرویز الٰہی، پرویز خٹک کو کیوں نہیں گرفتارکیا ،ان پر بھی تو کرپشن کے الزامات ہیں؟ چیئرمین نیب کو سوچنا چاہیے تھا کہ وہ کسٹوڈین آف دی ہاؤس کی گرفتاری کا حکم کس بنیاد پر دے رہے ہیں؟سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کو نوٹس لینا چاہیے تھا،پاناما کے معاملے پر سب سے پہلے بیان میں نے دیا تھا،اس وقت بھی کہا تھا اس معاملے کو پارلیمنٹ میں آنا چاہیے ، بلوچ عوام کے وسائل پر وہاں کی حکومت اور لوگوں کا حق ہے ،ایان علی کا نام لے کر بھی بلاوجہ پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے ، وہ کوئی سندھ حکومت کی مشیر تو نہیں ہیں،بے نامی اکاؤنٹس کیس میں ان کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے ، وکیل کو صرف 3 منٹ سن کر نظرثانی اپیل مسترد کر دی گئی، یہ معاملہ انسانی حقوق کا تو نہیں، کیس بینکنگ کورٹ میں تھا، صرف سست روی سے کیس چلنا انسانی حقوق کا معاملہ کیسے ہوگیا ؟،جب کیس کراچی کا ہے ، ایف آئی آر کراچی میں ہے ، اکاؤنٹس کراچی کے ہیں تو کیس راولپنڈی کیوں لے جایا جارہا ہے ؟ حکومت سندھ اسمبلی کا اجلاس بلائے اور سراج درانی کا پروڈکشن آرڈر جاری کیا جائے ۔آصف زرداری کی صاحبزادی بختاور بھٹو نے ٹویٹر پر کہا سپیکر سندھ اسمبلی کو گرفتار کرنا جمہوریت کی تذلیل ہے ،27 دسمبر کی تقریر کے بعد بلاول بھٹو زرداری کا نام ای سی ایل پر ڈالا گیا،پی ٹی آئی نے پریس کانفرنس کر کے سندھ پر قبضہ کرنے کے دعوے کئے ، یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ پی ٹی آئی ای سی ایل اور ان گرفتایوں سے کیا چاہتی ہے ؟ مشیر اطلاعات سندھ مرتضیٰ وہاب نے کہا سراج درانی کی گرفتاری سمجھ سے بالا تر ہے ، جرم ثابت ہونے سے قبل گرفتاری کیسے ہوسکتی ہے ؟ وزیراعظم،سپیکر قومی اسمبلی، وزرا کے خلاف انکوائریاں جاری ہیں، کیا وزیراعظم سمیت دیگر وزرا کے ساتھ بھی یہی رویہ اپنایا جائیگا ؟ پیپلز پارٹی کے رہنما مولا بخش چانڈیو نے کہا سندھ اسمبلی کے سپیکر کو اسلام آباد سے ہتھکڑیاں لگا کر کراچی لے جانا کیا پیغام دے گا؟ ۔ پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا اسلام آباد میں سپیکر سندھ اسمبلی کو گرفتار نہیں اغوا کیا گیا ، جو سندھ اسمبلی کی توہین ہے ،نیب علیمہ خان سے تو ڈرتا ہے ، پیر پگارا صدرالدین شاہ اور لیاقت جتوئی پر کیوں مہربان ہے ؟ پرویز خٹک، فہمیدہ مرزا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، علی زیدی بھی نیب کے ملزم ہیں، ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟