لب پہ پابندی تو ہے، احساس پہ پہرا تو ہے
پھر بھی اہلِ دل کو احوالِ بشر کہنا تو ہے

خونِ اعدا سے نہ ہو، خونِ شہیداں ہی سے ہو
کچھ نہ کچھ اس دور میں رنگِ چمن نکھرا تو ہے

اپنی غیرت بیچ ڈالیں، اپنا مسلک چھوڑ دیں
رہنماؤں میں بھی کچھ لوگوں کا یہ منشا تو ہے

ہے جنہیں سب سے زیادہ دعویِٰ حب الوطن
آج ان کی وجہ سے حبِ وطن رسوا تو ہے

بجھ رہے ہیں ایک اک کر کے عقیدوں کے دئیے
اس اندھیرے کا بھی لیکن سامنا کرنا تو ہے

جھوٹ کیوں بولیں فروغِ مصلحت کے نام پر
زندگی پیاری سہی، لیکن ہمیں مرنا تو ہے ٭٭٭