وہ جو تاج ور تھے سبک قدم اُنہیں شور و غل نے اڑا دیا
مری بستیوں کے جو مور تھے کہیں جنگلوں میں نکل گئے
مرے بچپنے کے جو پیڑ تھے انہیں کون لے گیا کا ٹ کے
وہ عمارتوں میں بدل گئے کہ کسی الاؤ میں جل گئے
***