مال و زر کے کسی انبار سے کیا لینا ہے
عشق کو گرمی بازار سے کیا لینا ہے
تیرے کنبے کی وراثت سے ہمیں کیا مطلب؟
تجھ سے مطلب ہے پریوار سے کیا لینا ہے
عمر بھر ساتھ نا ہے تو پھر بات کرو
ہم کو مہمان اداکار سے کیا لینا ہے
کونسے ہم بھی فرشتے ہیں کہ تجھ کو جانچیں
تیری سیرت، ترے کردار سے کیا لینا ہے
جھونپڑی اپنی بنا لیں گے کسی گوشے میں
قصر شاہی !ترے معمار سے کیا لینا ہے
اپنے اشکوں کے لیے جیب میں رومال رکھو
کام اپنا کسی غمخوار سے کیا لینا ہے
برف باری کا وہ شیدائی ہے ساجد اس کو
تیرے جلتے ہوئے اشعار سے کیا لینا ہے
***