ابر میں برق کے گلزار دکھاتے اس کو
کاش اس رات کبھی جا کے جگاتے اس کو

شہ نشینوں پہ ہوا پھرتی ہے کھوئی کھوئی
اب کہیں ہیں وہ مکیں یہ تو بتاتے اس کو!!

وہ جو پاس آ کے یوں ہی چُپ سا کھڑا رہتا تھا
اس کی تو خو تھی یہی، تم ہی بلاتے اس کو

غم گساری کی طلب تھی یہ محبّت تو نہ تھی
درد جب دل میں اٹھا تھا تو چھپاتے اس کو

فائدہ کیا ہے اگر اب وہ ملے بھی تو منیرؔ
عمر تو بیت گئی راہ پہ لاتے اس کو