یہ بے صدا سنگ و در اکیلے
اجاڑ سنسان گھر اکیلے

چلے جو پی کے تو مستیوں میں
گئے کہاں بے خبر اکیلے

مہیب بن تھا چہار جانب
کٹا تھا سارا سفر اکیلے

ہوا سی رنگوں میں چل رہی ہے
کھڑے ہیں وہ بام پر اکیلے

ہے شام کی زرد دھوپ سر پر
ہوں جیسے دن میں نگر اکیلے

منیرؔ گھر سے نکل کے ہم بھی
پھرے بہت در بدر اکیلے