اک عمر رہے ساتھ یہ معلوم نہیں تھا
وہ شخص ذرا سادہ و معصوم نہیں+تھا

یہ بات کبھی اس کی سمجھ میں نہیں+آئی
دل اس کا دوانہ تو تھا محکوم نہیں+تھا

محرومی رہی وصل کی در پیش۔ بجا ہے
میں تیری جدائی سے تو محروم نہیں تھا

قسمت کے بہت تیز تھے ہم آپ سے پہلے
جو آپ نے کر ڈالا وہ مقسوم نہیں تھا

تم ہوتے تو ہم ہوتے نہ ہوتے تو نہ ہوتے
ایسا بھی کوئی لازم ملزوم نہیں تھا
***