تیری قیمت گھٹائی جا رہی ہے
مجھے فُرقت سکھائی جا رہی ہے

یہ ہے تعمیرِ دنیا کا زمانہ
حویلی دل کی ڈھائی جا رہی ہے

وہ شے جو صرف ہندوستان کی تھی
وہ پاکستان لائی جا رہی ہے

کہاں کا دین۔۔کیسا دین۔۔کیا دین
یہ کیا گڑ بڑ مچائی جا رہی ہے

شعورِ آدمی کی سر زمیں تک
خدا کی اب دہائی دی جا رہی ہے

بہت سی صورتیں منظر میں لا کر
تمنا آزمائی جا رہی ہے

مجھے اب ہوش آتا جا رہا ہے
خدا تیری خدائی جا رہی ہے

نہیں معلوم کیا سازش ہے دل کی
کہ خود ہی مات کھائی جا رہی ہے

ہے ویرانی کی دھوپ اور اک آنگن
اور اُس پر لو چلائی جا رہی ہے


نہ ہم رہے نہ وہ خوابوں کی زندگی ہی رہی
گُماں ،گُماں سی مہک خود کو ڈھونڈتی ہی رہی

عجب طرح رخِ آئندگی کا رنگ اُڑھا
دیارِ ذات میں از خود گزشتگی ہی رہی

حریم شوق کا عالم بتائیں کیا تم کو
حریمِ شوق میں بس شوق کی کمی رہی

پاسِ نگاہِ تغافل تھی اک نگاہ کہ رہی تھی
جو دل کے چہرۂ حسرت کی تازگی ہی رہی

بدل گیا سب ہی کچھ اس دیارِ بُودش میں
گلی تھی جو مری جان وہ تری گلی ہی رہی

تمام دل کے محلے اُجڑ چکے تھے مگر
بہت دنوں تو ہنسی ہی رہی، خوشی ہی رہی

وہ داستان تمھیں اب بھی یاد ہے کہ نہیں
جو خون تھوکنے والوں کی بے حسی ہی رہی

سناؤں میں کسے افسانۂ خیالِ ملال
تری کمی ہی رہی اور مری کمی ہی رہی