کون آتا ہے مگر آس لگائے رکھنا
عمر بھر درد کی شمعوں کو جلائے رکھنا
دوست پرسش پہ مصر اور ہمارا شیوہ
اپنے احوال کو خود سے بھی چھپائے رکھنا
ہم کو اُس نام نے مارا کہ جہاں بھی جائیں
خلقتِ شہر نے طوفان اٹھائے رکھنا
اِس چکا چوند میں آنکھیں بھی گنوا بیٹھو گے
اُس کے ہوتے ہوئے پلکوں کو جھکائے رکھنا