ناصر اور ماجد گہرے دوست تھے۔ ان کی دوستی پورے محلے اور سکول میں مشہو ر تھی۔ یہ دونوں پڑوسی بھی تھے اکٹھے سکول جاتے، اکٹھے کھیلتے اور مل کر سکول کا ہوم ورک کرتے تھے۔ غرض ہر وقت اکٹھے رہنے سے ان میں بہت پیار بڑھ چکا تھا۔ ناصر کا تعلق متوسط طبقے سے تھا۔جبکہ ماجد غریب گھرانے کا چشم و چراغ تھا۔ ماجد کے ابّو پرچون کی دکان پر سارا دن بیٹھ کر گھر کا خرچ بمشکل چلا رہے تھے جبکہ ماجد کی پڑھائی کا خرچ اس کی امّی نے اٹھا رکھا تھا۔ وہ دن رات سلائی کر کے اپنے بیٹے کو تعلیم دلا رہی تھیں۔ ماجد بچپن سے ہی اپنے والدین کو سخت محنت کرتے دیکھ رہا تھا ان حالات نے ماجد کو زیادہ سنجیدہ بنا دیا تھا۔ ناصر ہر موقع پر ماجد کی حوصلہ افزائی کرتا اور اس کا دل بہلاتا دونوں کو اپنی دوستی پر ناز تھا۔ دونوں نے مڈل پاس کر کے اچھے سکول میں داخلہ لے لیا۔ ناصر نے ماجد کی کتابیں خریدنے میں کافی مدد کی۔ ماجد کی امّی کافی سال سے اَن تھک محنت کر رہی تھیں جس کی وجہ سے ان کی نظر کمزور ہو گئی اور ڈاکٹرکی ہدایت پر انہیں سلائی کا کام ترک کرنا پڑا۔ اب ماجد کے لیے کڑا وقت آن پہنچا ایک طرف پڑھائی کا شوق اور دوسری طرف بے تحاشا غربت جو اس کے خوابوں کو چکنا چور کر رہی تھی۔ ان حالات میں ناصر نے ماجد کا ساتھ نہ چھوڑا اور اس کی ہر ممکن مدد کی اور اپنے ساتھ ماجد کی فیس بھی ادا کرتا گیا اور باقی اخراجات بھی جہاں تک ممکن ہوتا پورے کر دیتا۔ اسے ماجد کی دوستی پر ناز تھا کیونکہ ماجد ہونہار اور قابل لڑکا تھا ان میں یہ بات بھی مشترک تھی کہ دونوں والدین کی اکلوتی اولاد تھے اور والدین کی تمام امیدیں ان سے وابستہ تھیں۔ ماجد پر برا وقت آیا تو ناصر کو کب گوارہ تھا کہ وہ اپنے دوست کو تنہا چھوڑدے۔ خیر دو سال بعد ماجد کے ابو کا کاروبار سنبھل گیا اور انہوں نے اخراجات سنبھال لیے دونوں نے سکول میں بے پناہ یادیں چھوڑیں اور کالج کی دہلیز پر قدم رکھا۔ اتفاق سے چھٹی کے دن ماجد بازار سے سودا سلف لے کر آرہا تھا اسے لوگوں کا ہجوم نظر آیا ایک آدمی خون میں لت پت پڑا ہوا تھا۔ جب ماجد نے پاس جا کر دیکھا تو وہ ناصر کے ابو تھے۔ ماجد انہیں فوراً ہسپتال لے گیا اور گھر والوں کو اطلاع دی۔ ناصر اور اس کی امی فوراً آگئیں۔ خون کافی بہہ گیا تھاڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق خون نہ ملنے پر ان کی جان بھی جا سکتی تھی۔ کسی کا گروپ نہ ملا تو ماجد نے اپنا خون دے کر انہیں بچا لیا۔ سب کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہہ نکلے۔ ناصر نے اپنے دوست کا شکریہ ادا کیا۔ دو تین سال پلک جھپکتے ہی گزر گئے ناصر اور ماجد نے اعلیٰ تعلیم حاصل کر لی اور اونچے عہدوں پر فائز ہو گئے ۔ ’’سچ ہے کہ ایک دوسرے کی مدد ہی سے ترقی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔‘‘ ٭…٭…٭