ذکر بھی اس سے کیا خلاء میرا
اس سے رشتہ ہی کیا رہا میرا

آج مجھ کو بہت برا کہہ کر
آپ نے نام تو لیا میرا

آخری بات تم سے کہنا ہے
یاد یہ رکھنا تم کہا میرا

اب تو کچھ بھی نہیں ہوں ویسے میں
کبھی وہ بھی تھا مبتلا میرا

وہ بھی منزل تلک پہنچ جاتا
اس نے ڈھونڈھا نہیں پتا میرا

تجھ سے مجھ کو نجات مل جائے
تو دعاء کر کہ ہو بھلا میرا

کیا بتاؤں بچھڑ گیا یاراں
اک بلقیس سے صبا میرا