اڑتے اڑتے آخر چاند
دل کی شاخ سے الجھا ہے

ہم تھک ہار کے سوئے ہیں
درد بھلا کب سویا ہے

سرد مزاجی کا موسم
اک مدت سے ٹھہرا ہے

رستے خالی خالی ہیں
کوئی رہ سے گزرا ہے

ایسا زور نصیب میرا
جانے کس نے لکھا ہے

تیرا وعدہ ابھی تلک
طاق کے اوپر رکھا ہے

اتنا کڑوا عشق سبھی
لوگوں نے کب چکھا ہے
***