صحن کو چمکا گئی، بیلوں کو گیلا کر گئی
رات بارش کی فلک کو اور نیلا کر گئی
دھوپ ہے اور زرد پھولوں کے شجر ہر راہ پر
اک ضیاۓ زہر سب سڑکوں کو پیلا کر گئی
کچھ تو اس کے اپنے دل کا درد بھی شامل ہی تھا
کچھ نشے کی لہر بھی اس کو سریلا کر گئی
بیٹھ کر میں لکھ گیا ہوں زخمِ دل کا ماجرا
خون کی اک بوند کاغذ کو رنگیلا کر گئی
***