کیوں ہو؟

کل کے پھولوں سے تھا جس کا رشتہ
آج کے غنچہ چینوں میں کیوں ہو
سال خوردہ ایاغوں کی تلچھٹ
نوجواں آبگینوں میں کیوں ہو

ساعتِ فصلِ گل ہے جوانی
کیوں نہ جشنِ مے و مہوشاں ہو
عاقبت کے عذابوں کا رونا
ان مبارک مہینوں میں کیوں ہو

بغض کی آگ، نفرت کے شعلے
میکشوں تک پہنچنے نہ پائیں
فصل یہ مندروں، مسجدوں کی
میکدوں کی زمینوں میں کیوں ہو ٭٭٭