تجھ سے مل کر بھی کچھ خفا ہیں ہم
بے مروّت نہیں تو کیا ہیں ہم
ہم غمِ کارواں میں بیٹھے تھے
لوگ سمجھے شکستہ پا ہیں ہم
اس طرح سے ہمیں رقیب ملے
جیسے مدت کے آشنا ہیں ہم
راکھ ہیں ہم اگر یہ آگ بجھی
جز غمِ دوست اور کیا ہیں ہم
خود کو سنتے ہیں اس طرح جیسے
وقت کی آخری صدا ہیں ہم
کیوں زمانے کو دیں فرازؔ الزام
وہ نہیں ہیں تو بے وفا ہیں ہم
٭٭٭