ہم کیا کہ اسی سوچ میں بادِ چمنی تھی
وہ گل کی چٹک تھی کہ تری کم سخنی تھی
آنسو کی وہ اک بوند جو آنکھوں سے نہ ٹپکی
آئینۂ دل کے لیے ہیرے کی کَنی تھی
پیمانے کو ہم منہ سے لگاتے نہ لگاتے
ساقی کی ملاقات ہی توبہ شکنی تھی
اب صورتِ دیوار ہیں چپ چاپ کہ تجھ سے
کچھ اور تعلق نہ سہی ہم سخنی تھی
یہ جاں جو کڑی دھوپ میں جلتی رہی برسوں
اوروں کے لیے سایۂ دیوار بنی تھی
دنیا سے بچھڑتے کہ فرازؔ اُن کو بھلاتے
ہر حال میں اپنے لیے پیماں شکنی تھی
٭٭٭