نظر کی دھوپ میں سائے گھلے ہیں شب کی طرح
میں کب اداس نہیں تھا مگر نہ اب کی طرح
پھر آج شہرِ تمنا کی رہگزاروں سے
گز ر رہے ہیں کئی لوگ روز و شب کی طرح
تجھے تو میں نے بڑی آرزو سے چاہا تھا
یہ کیا کہ چھوڑ چلا تو بھی اور سب کی طرح
فسردگی ہے مگر وجہِ غم نہیں معلوم
کہ دل پہ بھی بوجھ سا ہے رنجِ بے سبب کی طرح
کِھلے تو اب کے بھی گلشن میں پھول ہیں لیکن
نہ میرے زخم کی صورت نہ تیرے لب کی طرح