ہر ایک زخم کا چہرہ گلا جیسا ہے
مگر یہ جاگتا منظر بھی خواب جییسا ہے
یہ تلخ تلخ سا لہجہ، یہ تیز تیز سی بات
مزاج یار کا عالم شراب جیسا ہے
مرا سخن بھی چمن در چمن شفق کی پھوار
ترا بدن بھی مہکتے گلاب جیسا ہے
بڑا طویل، نہایت حسیں، بہت مبہم
مرا سوال تمہارے جواب جیسا ہے
تو زندگی کے حقائق کی تہہ میں یوں نہ اتر
کہ اس ندی کا بہاؤ چناب جیسا ہے
تری نظر ہی نہیں حرف آشنا ورنہ
ہر ایک چہرہ یہاں پر کتاب جیسا ہے
چمک اٹھے تو سمندر، بجھے تو ریت کی لہر
مرے خیال کا دریا سراب جیسا ہے
ترے قریب بھی رہ کر نہ پا سکوں تجھ کو
ترے خیال کا جلوہ حباب جیسا ہے
***