شکل اس کی تھی دلبروں جیسی
خو تھی لیکن ستمگروں جیسی
اس کے لب تھے سکوت کے دریا
اس کی آنکھیں سخنوروں جیسی
میری پرواز جاں میں حائل ہے
سانس ٹوٹے ہوئے پروں جیسی
دل کی بستی میں رونقیں ہیں مگر
چند اجڑے ہوئے گھروں جیسی
کون دیکھے گا اب صلیبوں پر
صورتیں وہ پیمبروں جیسی
میری دنیا کے بادشاہوں کی
عادتیں ہیں گداگروں جیسی
رخ پہ صحرا ہیں پیاس کے محسن
دل میں لہریں سمندروں جیسی
***