دل خوف میں ہے عالمِ فانی کو دیکھ کر
آتی ہے یاد موت کی پانی کو دیکھ کر

ہے بابِ شہرِ مردہ گزرگاہِ بادِ شام
میں چُہ ہوں اس جگہ کی گرانی کو دیکھ کر

ہِل سی رہی ہے حدِّ سفر فرطِ شوق سے
دھندلا رہے ہیں حرف معانی کو دیکھ کر

آزردہ ہے مکان میں خاکِ زمین بھی
چیزوں میں شوقِ نقلِ مکانی کو دیکھ کر

ہے آنکھ سرخ اس لبِ لعلیں کے عکس سے
دل خوں ہے اس کی شعلہ بیانی کو دیکھ کر

پردہ اٹھا تو جیسے یقیں بھی اُٹھا منیرؔ
گھبرا اٹھا ہوں سامنے ثانی کو دیکھ کر