26 جنوری

آؤ کہ آج غور کریں اس سوال پر
دیکھے تھے ہم نے جو، وہ حسیں خواب کیا ہوئے
دولت بڑھی تو ملک میں افلاس کیوں بڑھا
خوشحالیِ عوام کے اسباب کیا ہوئے
جو اپنے ساتھ ستاھ چلے کوئے دار تک
وہ دوست، وہ رفیق، وہ احباب کیا ہوئے
کیا مول لگ رہا ہے شہیدوں کے خون کا
مرتے تھے جن پہ ہم وہ سزا یاب کیا ہوئے
بے کس برہنگی کو کفن تک نہیں نصیب
وہ وعدہ ہائے اطلس و کمخواب کیا ہوئے
جمہوریت نواز، بشر دوست، امن خواہ
خود کو جو دیے تھے وہ القاب کیا ہوئے
مذہب کا روگ آج بھی کیوں لا علاج ہے
وہ نسخہ ہائے نادر و نایاب کیا ہوئے
ہر کوچہ شعلہ زار ہے، ہر شہر قتل گاہ
یکجہتیِ حیات کے آداب کیا ہوئے
صحرائے تیرگی میں بھٹکتی ہے زندگی
ابھرے تھے جو افق پہ وہ مہتاب کیا ہوئے

مجرم ہوں میں اگر، تو گنہگار تم بھی ہو
اے رہبرانِ قوم خطا کار تم بھی ہو
٭٭٭