میں زندہ ہوں، یہ مشتہر کیجیے
مرے قاتلوں کو خبر کیجیے

زمیں سخت ہے، آسماں دور ہے
بسر ہو سکے تو بسر کیجیے

ستم کے بہت سے ہیں ردِّ عمل
ضروری نہیں چشمِ تر کیجیے

وہی ظلم بارِ دگر ہے تو پھر
وہی جرم بارِ دگر کیجیے

قفس توڑنا بعد کی بات ہے
ابھی خواہشِ بال و پر کیجیے
٭٭٭