اب اس کو وہ بھولی باتیں یاد دلانا ٹھیک نہیں
ناحق وہ آزردہ ہو گا، اسے رُلانا ٹھیک نہیں
فون کے آگے چپ بیٹھا،میں کتنی دیر سے سوچ رہا ہوں
ابھی وہ تھک کر سویا ہوگا ، اسے جگانا ٹھیک نہیں
اک روشن کھڑکی کہتی ہے دیکھو،آگے دریا ہے
جاگ رہے ہیں سب گھر والے لان میں آنا ٹھیک نہیں
اس کے سپنے ٹوٹ گئے ، تو تم کو کیا نیند آئے گی
گڑیا جیسی لڑکی کو ،یوں آس دلانا ٹھیک نہیں
جتنا سفر گذرا ہے اب تک اب اس کی تکمیل کرو
تم اپنے گھر، میں اپنے گھر، آگے جانا ٹھیک نہیں
گھر والے ناراض تو ہوں گے اتنی دیر سے آنے پر
چاند کے ساتھ سفر میں تھے تم،یہ تو بہانہ ٹھیک نہیں
***