گاندھی ہو یا غالب ہو
گاندھی شتابدی اور غالب صدی کے اختتام پر لکھی گئی

گاندھی ہو یا غالب ہو

ختم ہوا دونوں کا جشن
آؤ، انہیں اب کر دیں دفن

ختم کرو تہذیب کی بات
بند کرو کلچر کا شور
ستیہ، اہنسا سب بکواس
ہم بھی قاتل، تم بھی چور

ختم ہوا دونوں کا جشن
آؤ، انہیں اب کر دیں دفن

وہ بستی، وہ گاؤں ہی کیا؟
جس میں ہریجن ہو آزاد
وہ قصبہ، وہ شہر ہی کیا؟
جو نہ بنے احمد آباد

ختم ہوا دونوں کا جشن
آؤ، انہیں اب کر دیں دفن

گاندھی ہو یا غالب ہو
دونوں کا کیا کام یہاں
اب کے برس بھی قتل ہوئی
ایک کی شکشا، اک کی زباں

ختم ہوا دونوں کا جشن
آؤ، انہیں اب کر دیں دفن
٭٭٭