لینن (1917ء)


طبقوں میں بٹی دنیا صدیوں سے پریشاں تھی
غمناکیاں رستی تھیں آباد خرابوں سے

عیش ایک کا لاکھوں کی غربت سے پنپتا تھا
منسوب تھی یہ حالت، قدرت کے حسابوں سے

اخلاق پریشاں تھا، تہذیب ہراساں تھی
بدکار "حضوروں" سے، بد نسل "جنابوں" سے

عیار سیاست نے ڈھانپا تھا جرائم کو
ارباب کلیسا کی حکمت کے نقابوں سے

انساں کے مقدر کو آزاد کیا تو نے
مذہب کے فریبوں سے، شاہی کے عذابوں سے
٭٭٭