شبِ وصال میں دوری کا خواب کیوں آیا
کمالِ فتح میں یہ ڈر کا باب کیوں آیا

دلوں میں اب کے برس اتنے وہم کیوں جاگے
بلادِ صبر میں اک اضطراب کیوں آیا

ہے آب گل پہ عجب اس بہارِ گزراں میں
چمن میں اب کے گلِ بے حساب کیوں آیا

اگر وہی تھا تو رخ پردہ بے رخی کیا تھی
ذرا سے ہجر میں یہ انقلاب کیوں آیا

بس ایک ہوٗ کا تماشہ تمام سمتوں میں
مری صدا کے سفر میں سراب کیوں آیا

میں خوش نہیں ہوں بہت دور اس سے ہونے پر
جو میں نہیں تھا تو اس پر شباب کیوں آیا

اُڑا ہے شعلۂ برف ابر کی فصیلوں پر
یہ اس بلا کے مقابل سحاب کیوں آیا

یقین کس لیے اس پر سے اٹھ گیا ہے منیرؔ
تمھارے سر پہ یہ شک کا عذاب کیوں آیا