قرارِ ہجر میں اس کے شراب میں نہ ملا
وہ رنگ اس گلِ رعنا کا خواب میں نہ ملا

عجب کشش تھی نظر پر سرابِ صحرا میں
گہر مگر وہ نظر کا اس آب میں نہ ملا

بس ایک ہجرتِ دائم، گھروں زمینوں میں
نشانِ مرکزِ دل اضطراب میں نہ ملا

سفر میں دھوپ کا منظر تھا اور، ساۓ کا اور
ملا جو مہر میں مجھ کو، سحاب میں نہ ملا

ہوا نی پیدا وہ شعلہ جو علم سے اٹھتا
یہ شہر مردہ صحیفوں کے باب میں نہ ملا

مکاں بنا نہ یہاں اس دیارِ شر میں منیرؔ
یہ قصرِ شوق نگر کے عذاب میں نہ ملا