ہری ٹہنیوں کے نگر پر گئے
ہوا کے پرندے شجر پر گئے

اک آسیبِ زر ان مکانوں میں ہے
مکیں اس جگہ کے سفر پر گئے

بہت دھند ہے اور وہ نقشِ قدم
خدا جانے کس رہگزر پر گئے

کہ جیسے ابھی تھا یہاں پر کوئی
گماں کیسے خوابِ سحر پر گئے

کئی رنگ پیدا ہوۓ برق سے
کئی عکس دیوار و در پر گئے

وہی حسنِ دیوانہ گر ہر طرف
سبھی رخ اسی کے اثر پر گئے

منیرؔ آج اتنی اداسی ہے کیوں
یہ کیا ساۓ سے، بحر و بر پر گئے