اہلِ غم جاتے ہیں ناامید تیرے شہر سے
جب نہیں تجھ سے تو کیا امید تیرے شہر سے
دیدنی تھی سادگی ان کی جو رکھتے تھے کبھی
اے وفا نا آشنا امید تیرے شہر سے
تیرے دیوانوں کے حق میں زہرِ قاتل ہو گئی
نا امیدی سے سوا امید تیرے شہر سے
پابجولاں دل گرفتہ پھر رہے ہیں کُو بکو
ہم جو رکھتے تھے سوا امید تیرے شہر سے
تُو تو بے پرواہی تھا اب لوگ بھی پتھر ہوئے
یا ہمیں تجھ سے تھی یا امید تیرے شہر سے
راستے کیا کیا چمک جاتے ہیں اے جانِ فرازؔ
جب بھی ہوتی ہے ذرا امید تیرے شہر سے
٭٭٭